حدیث نمبر: 210
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمْ یَکُنِ الثَّوْمُ بِاَرْضِنَا، بَلْ کَانَ الْبَصَلُ وَالْکِرَاثُ فَنُهِیْنَا عَنْهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لہسن ہمارے علاقے میں نہیں ہوتا تھا بلکہ پیاز اور گندنا (ایک سبزی) تھا پس ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 210
تخریج حدیث «مسند احمد : 374/3 . قال شعيب الارناوط : اسناده صحيح .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لہسن ہمارے علاقے میں نہیں ہوتا تھا بلکہ پیاز اور گندنا (ایک سبزی) تھا پس ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:210]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا بدبودار سبزی کھا کر مسجد میں نہیں جانا چاہیے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے فرشتے بدبو محسوس کرتے ہیں۔ کوئی بھی ایسی چیز جس کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہو کھا کر مسجد میں نہیں جانا چاہیے۔ سگریٹ، اور حقہ کے استعمال سے تو پیاز، گندنا کھانے سے بھی زیادہ بدبو آتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 210 سے ماخوذ ہے۔