مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الصلوٰة— نماز کے احکام و مسائل
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ یا سلام بھیجنا
حدیث نمبر: 208
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، نَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ اَبِیْ یَحْیَی الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَیْسَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدِ اَوْ یُسَلِّمُ عَلَیْهِ اِلَّا بَلَغَهٗ، یُصَلِّیْ عَلَیْكَ فُلَانٌ، وَیُسَلِّمُ عَلَیْكَ فُـلَانٌ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: امت محمد میں سے جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ یا سلام بھیجتا ہے تو وہ آپ تک پہنچ جاتا ہے، فلاں آپ پر صلوٰۃ بھیجتا ہے، اور فلاں آپ پر سلام بھیجتا ہے۔