حدیث نمبر: 199
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، نَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنَّا نَعْرِفُ اِنْقِضَاءَ صَلَاةَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّکْبِیْرِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:199]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:199]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نماز سے سلام پھیرنے کے بعد بآواز بلند تکبیر کہنا سنت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بلند آواز سے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذکر جاری تھا۔ (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 842)
لا اله الا الله کا اونچی آواز سے نماز کے بعد ذکر کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نماز سے سلام پھیرنے کے بعد بآواز بلند تکبیر کہنا سنت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بلند آواز سے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذکر جاری تھا۔ (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 842)
لا اله الا الله کا اونچی آواز سے نماز کے بعد ذکر کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 199 سے ماخوذ ہے۔