حدیث نمبر: 187
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، نا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ شُرَيْحًا سَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ الْغَدَاةِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَّ النَّاسَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقَالَ لَهَا شُرَيْحٌ: فَأَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا رَجَعَ إِلَيْكِ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ شریح رحمہ اللہ نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا:، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی اللہ چاہتا کہ آپ نماز تہجد پڑھیں آپ تہجد پڑھتے رہتے، پھر جب نماز فجر کا وقت ہوتا تو اسے پڑھانے سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، پھر تشریف لے جاتے اور فجر کی نماز پڑھاتے۔ شریح رحمہ اللہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے واپس آپ کے پاس تشریف لاتے تھے تو آپ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ مسواک سے ابتداء فرماتے تھے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 187
تخریج حدیث «اسناده صحيح لغيره . مختصر مسلم ، رقم : 253 . سنن ابن ماجه ، رقم : 290 ، 1150 . مسند احمد : 110/6 . السنن الكبريٰ للبيهقي : 34/1 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ شریح رحمہ اللہ نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی اللہ چاہتا کہ آپ نماز تہجد پڑھیں آپ تہجد پڑھتے رہتے، پھر جب نماز فجر کا وقت ہوتا تو اسے پڑھانے سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، پھر تشریف لے جاتے اور فجر کی نماز پڑھاتے۔ شریح رحمہ اللہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے واپس آپ کے پاس تشریف لاتے تھے تو آپ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ’’آپ مسواک سے ابتدا فرماتے تھے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:187]
فوائد:
(1) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا فجر کی نماز سے قبل فجر کی دو سنتیں ادا کرنا افضل ہے اور ان کا بہت بڑا اجر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، رقم: 725)
(2).... مذکورہ حدیث سے مسواک کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے اہتمام کے ساتھ مسواک کیا کرتے تھے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرمجھے اپنی امت یا (فرمایا) لوگوں کے مشقت میں پڑ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یقیناً انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔‘‘ (بخاري، کتاب الجمعة، رقم: 887۔ مسلم، رقم: 252)
معلوم ہوا ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ ہر نماز سے پہلے مسواک ضرور کرے۔ اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ ‘‘ (بخاري، کتاب الصیام، رقم: 1934۔ سنن نسائي، کتاب الطهارۃ، رقم: 5)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 187 سے ماخوذ ہے۔