حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ التَّنُورِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ: ((أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا قَالَ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب موذن کو سنتے تو جس طرح (کے کلمات) وہ کہتا ویسے ہی (کلمات) آپ فرماتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب موذن کو سنتے تو جس طرح (کے کلمات) وہ کہتا ویسے ہی (کلمات) آپ فرماتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:186]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:186]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا مسنون ہے۔ دوسری حدیث میں ہے: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 611) .... ’’جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جیسے کہ مؤذن کہتا ہے۔‘‘
صحیح مسلم میں ہے: ’’حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ‘‘ اور ’’حَیَّ عَلَی الْـفَلَاحِ‘‘ کی بجائے ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کہے اور اس روایت میں ہے کہ جو اذان کا جواب دے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم، کتاب الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن، رقم: 385)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان کا جواب دینا مسنون ہے۔ دوسری حدیث میں ہے: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 611) .... ’’جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جیسے کہ مؤذن کہتا ہے۔‘‘
صحیح مسلم میں ہے: ’’حَیَّ عَلَی الصَّلَاةِ‘‘ اور ’’حَیَّ عَلَی الْـفَلَاحِ‘‘ کی بجائے ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کہے اور اس روایت میں ہے کہ جو اذان کا جواب دے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم، کتاب الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن، رقم: 385)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔