حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَبَاهُ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن سات قرأتوں پر نازل ہوا ہے وہ سب شافی (اطمینان بخش) کافی (کفایت کرنے والی) ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 184
تخریج حدیث «بخاري ، مسلم ، كتاب صلاة المسافرين ، باب بيان القرآن على سبعة احراف الخ ، رقم : 819 . سنن ابوداود ، رقم : 1475 . سنن ترمذي ، رقم : 2943 . سنن نسائي ، رقم : 940 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قرآن سات قراء توں پر نازل ہوا ہے وہ سب شافی (اطمینان بخش) کافی (کفایت کرنے والی) ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:184]
فوائد:
یہ قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے ایک طرح کی آسانی ہے کہ وہ کسی بھی قرأت میں قرآن کی تلاوت کریں اللہ ان کو اجر سے محروم نہیں کریں گے جبکہ وہ قراء اتِ متواترہ ہوں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 184 سے ماخوذ ہے۔