حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر اس نے اسے پورا ادا کیا ہو گا تو ٹھیک، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کی نفل نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفل نماز مل گئی تو فرمائے گا: اس کے ساتھ فرض نماز کو پورا کر دو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 180
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الصلاة ، باب قول النبى صلى الله عليه وسلم كل صلاة . . . رقم : 864 . سنن ترمذي ، كتاب الصلاة ، باب ان اول ما يحاسب به العيد يوم القيامة الصلاة ، رقم : 413 . قال الشيخ الالباني : صحيح ، سنن نسائي ، رقم : 466 . سنن ابن ماجه ، رقم : 1426 . مسند احمد : 103/4 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر اس نے اسے پورا ادا کیا ہوگا تو ٹھیک، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کی نفل نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفل نماز مل گئی تو فرمائے گا: اس کے ساتھ فرض نماز کو پورا کر دو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:180]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا قیامت کے دن سب سے پہلے حساب نماز کے متعلق ہوگا، فارسی شاعر لکھتا ہے: روز محشر کہ جاں گداز بود
اولین پرسش نماز بود
صحیح مسلم میں ہے سب سے پہلے خونوں کا حساب لیا جائے گا۔ (مسلم: 1678)
علماء نے لکھا ہے: حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا، اور حقوق العباد میں قتل کا ہوگا۔ (سبل السلام: 4؍8)
مذکورہ حدیث سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور مذکورہ بالاحدیث سے نفلی نماز کی اہمیت وفضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔ معلوم ہوا نفلی نماز کو ترک نہیں کرنا چاہیے، بالخصوص سنت موکدہ جو فرض نماز سے پہلے یا بعد میں ادا کی جاتی ہیں۔ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر میں جن پر پابندی کی ہے۔ بلکہ نوافل وسنن کی ادائیگی کرنے والے خوش نصیب لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوگا۔
جیسا کہ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’(جو مانگنا چاہتا ہے) مانگ‘‘ میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا طلب گار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے علاوہ بھی کچھ؟‘‘ میں نے عرض کیا: بس یہی مطلوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَةِ السُّجُوْدِ)) (مسلم، کتاب الصلاۃ، رقم: 489۔ سنن ابي داود، رقم: 1320) .... ’’اپنے نفس کی طلب کے حصول کے لیے سجود (یعنی کثرت نوافل) کے ساتھ میری مدد کر۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 180 سے ماخوذ ہے۔