حدیث نمبر: 175
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صف کی درستگی نماز کی خوبی سے ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 175
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الاذان ، باب اقامة الصف من تمام الصلاة ، رقم : 722 . مسلم ، كتاب الصلاة ، باب نسوية الصفوف الخ ، رقم : 435 . مسند احمد : 177/3 . ابن خزيمه ، رقم : 1543 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صف کی درستگی نماز کی خوبی سے ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:175]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا صفوں کی درستگی نماز کے حسن سے ہے۔ لیکن اس حسن سے مراد فقط نماز میں صفتوں سے مرتب شدہ حسن نہیں ہے کہ امیر، غریب، عالم، غیر عالم، سیاہ، سفید، خوشنما اور بدنما سب ایک ہی صف میں کھڑے اچھے نظر آرہے ہیں۔ بلکہ اس حسن سے مراد حقیقی حسن ہے۔ (ارشاد الساری: 2؍ 66)
ایک دوسری حدیث میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی صفوں کو برابر کرو، پس تحقیق صفوں کا برابر کرنا نماز کے پورا کرنے سے ہے۔‘‘ (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 723)
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو اس طرح سیدھا کراتے گویا اس کے ساتھ تیر کو سیدھا کیا جائے گا، یہاں تک کہ آپ کو اطمینان ہوگیا کہ ہم نے اس مسئلہ کو آپ سے خوب سمجھ لیا ہے۔ ایک دن آپ مصلے پر تشریف لائے اور ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ باہر نکلا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو برابر کر لو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔‘‘ (مسلم، کتاب الصلاۃ، رقم: 979)
صفیں ملانے کا طریقہ:.... سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صفیں برابر کر لو میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر) ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ (صف میں) اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا دیتا تھا۔‘‘ (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 725)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 175 سے ماخوذ ہے۔