حدیث نمبر: 164
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ)) ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، کتا اور گدھا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے جبکہ پالان کی آخری لکڑی جیسی چیز اسے بچا دیتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت، کتا اور گدھا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے جبکہ پالان کی آخری لکڑی جیسی چیز اسے بچا دیتی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:164]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:164]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نمازی کے آگے اگر سترہ ہو تو کوئی بھی چیز گزر جائے نماز باطل نہیں ہوتی۔ اور ستر ے کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ اونٹ کے پالان کے پچھلے حصے کی لکڑی کی اونچائی کے برابر ہو۔ نہ کہ چوڑائی کے، جیسا کہ دوسری حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے (ہر) ایک کو نماز میں سترہ رکھنا چاہیے خواہ تیر کو ہی سترہ بنا لے۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 2783)
اور کسی جانور کو سترہ بنانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (صحیح ابوداود، رقم: 641)
امام صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ لکڑی بازو کے دو تہائی حصے کے برابر ہوتی ہے۔ (سبل السلام: 1؍ 413)
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا موقف ایک ہاتھ اور ایک بالشت ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں تذکرہ ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا نمازی کے آگے اگر سترہ ہو تو کوئی بھی چیز گزر جائے نماز باطل نہیں ہوتی۔ اور ستر ے کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ اونٹ کے پالان کے پچھلے حصے کی لکڑی کی اونچائی کے برابر ہو۔ نہ کہ چوڑائی کے، جیسا کہ دوسری حدیث سے ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے (ہر) ایک کو نماز میں سترہ رکھنا چاہیے خواہ تیر کو ہی سترہ بنا لے۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 2783)
اور کسی جانور کو سترہ بنانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (صحیح ابوداود، رقم: 641)
امام صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ لکڑی بازو کے دو تہائی حصے کے برابر ہوتی ہے۔ (سبل السلام: 1؍ 413)
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا موقف ایک ہاتھ اور ایک بالشت ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں تذکرہ ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 164 سے ماخوذ ہے۔