حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتا، گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ ڈالتے ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 157
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الصلاة ، باب قدر ما يستر المصلي ، رقم : 511 . سنن ابن ماجه ، رقم : 950 . مسند احمد : 425/2 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کتا، گدھا اور عورت(نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ ڈالتے ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:157]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کتے، گدھے اور عورت کے گزرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہ تینوں چیزیں نماز کو باطل نہیں کرتیں بلکہ صرف اجر وثواب میں کمی کرتی ہیں۔ جبکہ امام احمد رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ صرف کتا گزرے تو نماز باطل ہوتی ہے، گدھے اور حائضہ عورت کے گزرنے سے نہیں ہوتی۔ (نیل الاوطار: 2؍ 210)
لیکن حدیث کے عموم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز لوٹانی چاہیے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ گدھے، عورت اور سیاہ کتے کے گزرنے پر نماز لوٹائی جائے۔ (سلسلة الصحیحة، رقم: 3323)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم، امام ابن حزمs کا موقف ہے: ان تینوں کے گزرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ (توضیح الاحکام: 2؍ 72)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان تینوں کے علاوہ اور کوئی گزرے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔ (فتاویٰ اسلامیة: 1؍ 243۔244)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔