حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ تَجَوَّزَ فِيهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((نَعَمْ، وَأَوْجَزَ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

ابن ابی خالد نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے فجر کی نماز پڑھی وہ اس میں اختصار کرتے تھے، میں نے کہا: ابوہریرہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس سے بھی زیادہ مختصر۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 156
تخریج حدیث «مسند احمد : 472/2 . مسندي حميدي ، رقم : 987 . اسناده حسن لغيره .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابن ابی خالد نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے فجر کی نماز پڑھی وہ اس میں اختصار کرتے تھے، میں نے کہا: ابوہریرہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس سے بھی زیادہ مختصر۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:156]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا امام کو مختصر جماعت کروانی چاہیے۔ مختصر کا مطلب یہ ہے کہ قرائت میں زیادہ طوالت، رکوع وسجود اور تشہد میں بہت زیادہ اذکار ودعاؤں سے اجتناب کرے۔
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لیے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں، اس پر آپ اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضبناک آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگو! تم میں بعض لوگ (نماز سے لوگوں کو) دور کرنے کا باعث ہیں، پس جو شخص امام ہو اسے ہلکی نماز پڑھنی چاہیے، اس لیے کہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہوتے ہیں۔‘‘ (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 704)
جب اکیلا ہو تو آدمی جتنی چاہے لمبی نماز پڑھ سکتا ہے جیسا کہ (بخاري، رقم: 703۔ مسلم، رقم: 467) سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 156 سے ماخوذ ہے۔