حدیث نمبر: 141
قَالَ مَعْمَرٌ، وَنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلِلشَّاهِدِ عَلَيْهِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، ہر تر اور خشک چیز جو اسے سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اذان سن کر باجماعت نماز پڑھنے والے کے لیے پچیس نیکیاں ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، ہر تر اور خشک چیز جو اسے سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اذان سن کر باجماعت نماز پڑھنے والے کے لیے پچیس نیکیاں ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:141]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:141]
فوائد:
معلوم ہوا موذن کی تاحدِّ آواز معافی ہو جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس آدمی کے اتنے زیادہ گناہ ہوں جس جگہ پر اذان دے رہا ہے اور اس جگہ سے لے کر جہاں تک اذان کی آواز پہنچی ہے جو درمیان میں خلا ہے، اگر اس کے گناہ اتنے ہیں کہ اس خلا کو پورا کر دے تواذن کہنے کی برکت سے اللہ ذوالجلال وہ گناہ معاف کر دے گا، اور اسی طرح ہر سننے والی چیز اس کی تصدیق کرتی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: ((لَا یَسْمَعُ مدی صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ جِنُّ وَلَا اِنْسٌ وَلَا شَئْیٌ اِلَّا شَهِدَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ)) (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 609)
’’کیونکہ موذن کی آواز کو آخری حد تک جو جن، انسان اور کوئی اور چیز سنتی ہے تو قیامت والے دن وہ اس کے لیے گواہی دے گی۔‘‘
حتیٰ کہ اس خوش نصیب کے لیے زمین بھی گواہی دے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا﴾ (الزلزال: 4).... ’’اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ (موذن کے لیے) اس کے ساتھ نماز پڑھنے والے کے برابر اجر ہے (مطلب یہ ہے کہ جو بھی اذان سن کر آئیں گے جتنا اجر نماز کا ان کو ملے گا ان کے برابر اس موذن کو بھی ہر بندے کے اجر کے برابر ثواب ملے گا) (صحیح ترغیب وترهیب: 1؍ 214)
معلوم ہوا موذن کی تاحدِّ آواز معافی ہو جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس آدمی کے اتنے زیادہ گناہ ہوں جس جگہ پر اذان دے رہا ہے اور اس جگہ سے لے کر جہاں تک اذان کی آواز پہنچی ہے جو درمیان میں خلا ہے، اگر اس کے گناہ اتنے ہیں کہ اس خلا کو پورا کر دے تواذن کہنے کی برکت سے اللہ ذوالجلال وہ گناہ معاف کر دے گا، اور اسی طرح ہر سننے والی چیز اس کی تصدیق کرتی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: ((لَا یَسْمَعُ مدی صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ جِنُّ وَلَا اِنْسٌ وَلَا شَئْیٌ اِلَّا شَهِدَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ)) (بخاري، کتاب الاذان، رقم: 609)
’’کیونکہ موذن کی آواز کو آخری حد تک جو جن، انسان اور کوئی اور چیز سنتی ہے تو قیامت والے دن وہ اس کے لیے گواہی دے گی۔‘‘
حتیٰ کہ اس خوش نصیب کے لیے زمین بھی گواہی دے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا﴾ (الزلزال: 4).... ’’اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ (موذن کے لیے) اس کے ساتھ نماز پڑھنے والے کے برابر اجر ہے (مطلب یہ ہے کہ جو بھی اذان سن کر آئیں گے جتنا اجر نماز کا ان کو ملے گا ان کے برابر اس موذن کو بھی ہر بندے کے اجر کے برابر ثواب ملے گا) (صحیح ترغیب وترهیب: 1؍ 214)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 141 سے ماخوذ ہے۔