حدیث نمبر: 134
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند مروی ہے، البتہ اس میں یوں فرمایا: ”اللہ اس کے سر کو بدل دے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 134
تخریج حدیث «انظر ما قبله»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند مروی ہے، البتہ اس میں یوں فرمایا: ’’اللہ اس کے سر کو بدل دے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:134]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدی کو رکوع یا سجدے میں امام سے پہلے سر نہیں اٹھانا چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عام طور پر اللہ تعالیٰ گناہوں کی سزا دنیا میں نہیں دیتے، لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ بعض گناہوں کی سزا دنیا میں دے دیں۔ لہٰذا اللہ ذوالجلال کے لیے کسی کا سر یا شکل گدھے کی طرح بنانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ’’معجم الاوسط للطبرانی‘‘ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو کتے کا سر بنا دے۔
مشکوٰۃ شریف کے درسی نسخہ کے حاشیہ میں واقعہ لکھا ہوا ہے کہ ایک بہت بڑے محدث نے مذکورہ بالا حدیث جب پڑھائی تو کہنے لگے: مجھے اس حدیث میں شک پیدا ہوا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کا سر گدھے کا بن جائے۔ تو اس نے تجربے کے لیے نماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھایا تو اس کا سر واقعتا گدھے کا بن گیا، پھر جب وہ مسجد مدرسے سے باہر نکلتا تو اپنا سر ڈھانپ کر آتا اس ڈر سے کہ لوگ کہیں گے وہ گدھا آگیا۔ (مشکوٰۃ، باب ما علی الماموم، پہلی فصل کی آخری حدیث پر یہ واقعہ لکھا ہوا ہے)
اللہ ذوالجلال ہمیں نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں پہ عمل کرنے کی توفیق دے اور شک کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 134 سے ماخوذ ہے۔