حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي خَيْرٌ لَهُ أَنْ يُدْعَى إِلَى شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ سَمِينٍ يَفْعَلُ فَمَا لَهُ فِي ذَلِكَ أَكْثَرُ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اسے موٹی تازی ایک بکری یا دو موٹی تازی بکریوں کی طرف بلایا جائے تو وہ ضرور کرے، (نماز میں حاضر ہو) پس اس کے لیے جو اس میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اسے موٹی تازی ایک بکری یا دو موٹی تازی بکریوں کی طرف بلایا جائے تو وہ ضرور کرے۔ (نماز میں حاضر ہو) پس اس کے لیے جو اس میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:132]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:132]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے نماز باجماعت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی چیز نماز باجماعت ہے۔ مذکورہ حدیث سے ان مسلمانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو دکانداری یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے نماز باجماعت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو نماز پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے ’’اگر کوئی شخص ایک ہڈی فربہ جانور کی پائے تو (یہ منافق ہڈی کو حاصل کرنے کے لیے نماز پڑھنے کے لیے) ضرور آئے یعنی عشاء کی نماز۔ ‘‘ (مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة)
مذکورہ حدیث سے نماز باجماعت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی چیز نماز باجماعت ہے۔ مذکورہ حدیث سے ان مسلمانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو دکانداری یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے نماز باجماعت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو نماز پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے ’’اگر کوئی شخص ایک ہڈی فربہ جانور کی پائے تو (یہ منافق ہڈی کو حاصل کرنے کے لیے نماز پڑھنے کے لیے) ضرور آئے یعنی عشاء کی نماز۔ ‘‘ (مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 132 سے ماخوذ ہے۔