حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سعید بن مسیب رحمہ الله نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مثل روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 129
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:129]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے نماز کے بعد نماز والی جگہ پر بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ایسے خوش نصیب لوگوں کے لیے فرشتے دعاکرتے ہیں کہ اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر۔ جیسا کہ قرآن مجید فرقان حمید میں بھی ان کی دعا کے الفاظ ہیں: ﴿الَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ (المومن: 7).... ’’جو فرشتے عرش اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے اس کے گرد جمع ہیں یہ سب اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی مسجد ہی میں دوسری جگہ منتقل ہو جائے تو پھر بھی اس کو وہی اجر حاصل ہوگا؟
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دوسری جگہ بھی منتقل ہو جائے گا تو وہی ثواب حاصل ہوگا۔ (عمدة القاری: 5؍ 167)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے اگر عورت یا اسی طرح بیمار آدمی یا خوف کی وجہ سے کوئی آدمی گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے اور نماز کے بعد اسی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو اس کو بھی بیان کردہ اجر ملے گا۔ مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں بے وضو ہونے سے انسان مذکورہ بالا فضیلت سے محروم ہو جاتا ہے اور فرشتوں کی دعائیں بند ہو جاتی ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 129 سے ماخوذ ہے۔