حدیث کتب › مسند الحميدي ›
حدیث نمبر: 1243
1243 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: «أَنَجَشَةُ، رِفْقًا قَوْدًا بِالْقَوارِيرِ» يَعْنِي النِّسَاءَاردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: ”اے انجثہ! آرام سے چلو! تم کانچ کو لے جا رہے ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خواتین تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ محمد ابراہیم بن بشیر
1243- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: ”اے انجثہ! آرام سے چلو! تم کانچ کو لے جارہے ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خواتین تھیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1243]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے، اس کے متعلق شرح تفصیل سے گزر چکی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے، اس کے متعلق شرح تفصیل سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1241 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6161 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6161. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اے انجثہ کہا جاتا تھا۔ وہ حدی پڑھ کر اونٹ چلا رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انجثہ! افسوس تجھ پر، آبگینوں کو آہستہ آہستہ لے کر چلو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6161]
حدیث حاشیہ: شیشوں سے آپ نے عورتوں کو مراد لیا کیونکہ وہ بھی شیشے کی طرح نازک اندام ہو تی ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6161 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6211 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6211. حضرت انس بن مالک ؓ سے ایک اور روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کا ایک حدی خواں تھا جسے انجشہ کہا جاتا تھا۔ اس کی آواز بہت سریلی تھی۔ نبی ﷺ نے اے فرمایا: ”اے انجشہ! نرمی کرو، آبگینوں کو چورنہ کرو۔ “ حضرت قتادہ نے کہا: اس سے مراد کمزور عورتیں ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6211]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری طور پر شیشے کے الفاظ استعمال کیے لیکن اس سے مراد یہ تھی کہ عورتیں کمزور ہیں۔
اور شیشوں کو توڑنے سے مراد ان کا نیچے گر کر چوٹ کھانا ہے، لیکن درحقیقت آپ کی مراد یہ تھی کہ جس طرح چوٹ لگنے سے شیشہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اس کی اصلاح نہیں ہوتی، اسی طرح حُدِی کی آواز سے عورتوں کے دل میں گانے کی محبت پیدا ہو گی اور اس سے ان کے اخلاق بگڑنے کا اندیشہ ہے پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہو گی۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ بول کر ظاہری معنی کے بجائے باطنی معنی مراد لیے، اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری طور پر شیشے کے الفاظ استعمال کیے لیکن اس سے مراد یہ تھی کہ عورتیں کمزور ہیں۔
اور شیشوں کو توڑنے سے مراد ان کا نیچے گر کر چوٹ کھانا ہے، لیکن درحقیقت آپ کی مراد یہ تھی کہ جس طرح چوٹ لگنے سے شیشہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اس کی اصلاح نہیں ہوتی، اسی طرح حُدِی کی آواز سے عورتوں کے دل میں گانے کی محبت پیدا ہو گی اور اس سے ان کے اخلاق بگڑنے کا اندیشہ ہے پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہو گی۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ بول کر ظاہری معنی کے بجائے باطنی معنی مراد لیے، اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6211 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6202 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6202. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدہ ام سلیم ؓ سامان سفر کے ساتھ تھیں اور نبی ﷺ کے غلام انجشہ ؓ عورتوں کے اونٹ ہانک رہے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے انجش! ان آبگینوں کے ساتھ نرمی کرو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6202]
حدیث حاشیہ: انجشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کالے رنگ والے تھے۔
گانے میں آواز بہت غضب کی حسین تھی جسے سن کر اونٹ بھی مست ہوجاتے تھے۔
آپ نے مستورات کو شیشے سے تشبیہ دی۔
نزاکت کی بنا پر اورانجشہ کو سواری تیز چلانے سے روکا کہ کہیں تیزی میں کوئی عورت سواری سے گر نہ جائے۔
انجشہ کو صرف انجش سے آپ نے ذکر فرمایا باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
گانے میں آواز بہت غضب کی حسین تھی جسے سن کر اونٹ بھی مست ہوجاتے تھے۔
آپ نے مستورات کو شیشے سے تشبیہ دی۔
نزاکت کی بنا پر اورانجشہ کو سواری تیز چلانے سے روکا کہ کہیں تیزی میں کوئی عورت سواری سے گر نہ جائے۔
انجشہ کو صرف انجش سے آپ نے ذکر فرمایا باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6202 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6202 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6202. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدہ ام سلیم ؓ سامان سفر کے ساتھ تھیں اور نبی ﷺ کے غلام انجشہ ؓ عورتوں کے اونٹ ہانک رہے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے انجش! ان آبگینوں کے ساتھ نرمی کرو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6202]
حدیث حاشیہ:
پہلی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام تخفیف کے ساتھ عائش اور دوسری حدیث میں انجشہ کا نام صرف انجش لیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور پیار سے ان ناموں سے آخری حرف حذف کر کے انہیں بلایا ہے اور ایسا کرنا جائز ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ''یا عثم'' کہہ کر پکارا تھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 828)
پہلی حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام تخفیف کے ساتھ عائش اور دوسری حدیث میں انجشہ کا نام صرف انجش لیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور پیار سے ان ناموں سے آخری حرف حذف کر کے انہیں بلایا ہے اور ایسا کرنا جائز ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ''یا عثم'' کہہ کر پکارا تھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 828)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6202 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6149 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6149. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ اپنی بعض بیویوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ حضرت ام سلیم ؓ بھی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انجشہ! تجھ پر افسوس ہو ان آبگینوں کو ذرا آہستگی سے لے کر چل۔“ ابو قلابہ نے کہا: نبی ﷺ نے عورتوں کے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا اگر تم سے کوئی شخص ان الفاظ کو استعمال کرے تو اسے معیوب خیال کرو، یعنی آپ ﷺ کا ارشاد: ”ان آبگینوں کو آہستگی سے لے کر چل۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6149]
حدیث حاشیہ: شیشوں سے مراد عورتیں تھیں جو فی الواقع شیشے کی طرح نازک ہوتی ہیں، انجشہ نامی غلام اونٹوں کا چلانے والا بڑا خوش آواز تھا۔
اس کے گانے سے اونٹ مست ہو کر خوب بھاگ رہے تھے۔
آپ کو ڈر ہوا کہ کہیں عورتیں گر نہ جائیں، اس لئے فرمایا آہستہ لے چل۔
نکتہ چینی اس طور پر کہ عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی اور ان کو شیشے کی طرح نازک قرار دیا مگر یہ تشبیہ بہت عمدہ تھی۔
فی الحقیقت عورتیں ایسی ہی نازک ہوتی ہیں۔
صنف نازک پر یہ رحمۃ للعالمین کا احسان عظیم ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری و نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس کرایا۔
اس کے گانے سے اونٹ مست ہو کر خوب بھاگ رہے تھے۔
آپ کو ڈر ہوا کہ کہیں عورتیں گر نہ جائیں، اس لئے فرمایا آہستہ لے چل۔
نکتہ چینی اس طور پر کہ عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی اور ان کو شیشے کی طرح نازک قرار دیا مگر یہ تشبیہ بہت عمدہ تھی۔
فی الحقیقت عورتیں ایسی ہی نازک ہوتی ہیں۔
صنف نازک پر یہ رحمۃ للعالمین کا احسان عظیم ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری و نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس کرایا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6149 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6149 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6149. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ اپنی بعض بیویوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ حضرت ام سلیم ؓ بھی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انجشہ! تجھ پر افسوس ہو ان آبگینوں کو ذرا آہستگی سے لے کر چل۔“ ابو قلابہ نے کہا: نبی ﷺ نے عورتوں کے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا اگر تم سے کوئی شخص ان الفاظ کو استعمال کرے تو اسے معیوب خیال کرو، یعنی آپ ﷺ کا ارشاد: ”ان آبگینوں کو آہستگی سے لے کر چل۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6149]
حدیث حاشیہ:
(1)
انجشہ سیاہ فام حبشی نژاد ایک غلام تھا جو بڑی خوشی آوازی کے ساتھ حُدی پڑھتا اور اونٹوں کو چلاتا تھا۔
اس کی خوش الحانی سے متاثر ہو کر اونٹ مستی کے ساتھ دوڑ رہے تھے۔
ان اونٹوں پر خواتین تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ عورتیں گر جائیں، اس لیے آپ نے فرمایا: ’’انہیں آہستہ لے کر چل۔
‘‘ (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی نازک مزاجی کی وجہ سے انہیں آبگینوں سے تشبیہ دی کیونکہ عورتیں اگر شکستہ دل ہو جائیں تو ان کا پھر طبعی حالت پر آنا بہت مشکل ہوتا ہے، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے پھر درست نہیں ہوتا۔
چونکہ عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں اور خوش الحانی سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں، گانا سننے کی طرف ان کا میلان بڑھ جاتا ہے اور گانا، ذہنی آوارگی کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اس لیے آپ نے انجشہ کو تنبیہ فرمائی۔
(3)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس صنف نازک پر بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری اور نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس دلایا۔
حدیث کے آخر میں ابو قلابہ کی بات کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کا کلام زیب دیتا تھا۔
اگر عام شخص اس قسم کا استعارہ استعمال کرے تو تم اس پر عیب لگانا شروع کر دو گے۔
(فتح الباري: 669/10)
(1)
انجشہ سیاہ فام حبشی نژاد ایک غلام تھا جو بڑی خوشی آوازی کے ساتھ حُدی پڑھتا اور اونٹوں کو چلاتا تھا۔
اس کی خوش الحانی سے متاثر ہو کر اونٹ مستی کے ساتھ دوڑ رہے تھے۔
ان اونٹوں پر خواتین تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ عورتیں گر جائیں، اس لیے آپ نے فرمایا: ’’انہیں آہستہ لے کر چل۔
‘‘ (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی نازک مزاجی کی وجہ سے انہیں آبگینوں سے تشبیہ دی کیونکہ عورتیں اگر شکستہ دل ہو جائیں تو ان کا پھر طبعی حالت پر آنا بہت مشکل ہوتا ہے، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے پھر درست نہیں ہوتا۔
چونکہ عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں اور خوش الحانی سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں، گانا سننے کی طرف ان کا میلان بڑھ جاتا ہے اور گانا، ذہنی آوارگی کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اس لیے آپ نے انجشہ کو تنبیہ فرمائی۔
(3)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس صنف نازک پر بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کی کمزوری اور نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس دلایا۔
حدیث کے آخر میں ابو قلابہ کی بات کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کا کلام زیب دیتا تھا۔
اگر عام شخص اس قسم کا استعارہ استعمال کرے تو تم اس پر عیب لگانا شروع کر دو گے۔
(فتح الباري: 669/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6149 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2323 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر تھے اور آپ کا انجشہ نامی حبشی (سیاہ فام) غلام حدی خوانی کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے انجشہ! شیشوں کے لیے، سواری آہستہ آہستہ ہانکو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6036]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يحدو: اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے گا رہا تھا۔
(2)
رويد: آہستہ آہستہ، نرمی کے ساتھ قواریر، قارورہ کی جمع ہے، آبگینہ، شیشہ، عورتوں کو صنف نازک ہونے کی بنا پر ان کے ضعف اور کمزوری کے سبب شیشہ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ وہ شیشہ کی طرح جلد ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، زیادہ مشقت طلب کام کرنا، ان کے لیے مشکل ہے یا وہ جلد متاثر ہو جاتی ہیں، اس لیے تیز رفتاری سے، ان کے گرنے یا رنج و الم محسوس کرنے ڈرنے کا خطرہ تھا۔
(1)
يحدو: اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے گا رہا تھا۔
(2)
رويد: آہستہ آہستہ، نرمی کے ساتھ قواریر، قارورہ کی جمع ہے، آبگینہ، شیشہ، عورتوں کو صنف نازک ہونے کی بنا پر ان کے ضعف اور کمزوری کے سبب شیشہ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ وہ شیشہ کی طرح جلد ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، زیادہ مشقت طلب کام کرنا، ان کے لیے مشکل ہے یا وہ جلد متاثر ہو جاتی ہیں، اس لیے تیز رفتاری سے، ان کے گرنے یا رنج و الم محسوس کرنے ڈرنے کا خطرہ تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2323 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2323 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنی ازواج کے پاس پہنچے، انجشہ نامی اونٹ ہانکنے والا، ان کی سواریاں ہانک رہا تھا تو آپ نے فرمایا، ’’افسوس، اے انجشہ شیشوں کی سواریوں کو نرمی سے ہانکو۔‘‘ ابوقلابہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بول بولا اگر تم میں سے کوئی بولتا تو تم اس پر اعتراض اور نکتہ چینی کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6038]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ابو قلابہ کے نزدیک عورتوں کو شیشہ سے تشبیہ دینے کا مقصد، ان کا حسن صوت سے جلد متاثر ہو جانا تھا، حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ کی آواز سریلی تھی، آپ نے محسوس فرمایا کہ کہیں عورتیں، اس کی آواز سے متاثر ہو کر اس پر فریفتہ نہ ہو جائیں اور لوگوں کے سامنے ایسی بات کہنا، عام طور پر اچھا خیال نہیں کیا جاتا، اس لیے حضرت ابو قلابہ نے کہا، اگر تم میں سے کوئی یہ بات کہتا تو تم، اس کو برا مناتے کہ اس نے عورتوں کے بارے میں کیا کہہ دیا اور کہنے والے پر اعتراض کرتے، ایک ضرب المثل ہے، الغناء رقية لزنا، گانا، زنا کا پیش خیمہ ہے یا راگ زنا کا منتر ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2323 سے ماخوذ ہے۔