حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ بِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آمین کہہ لینے کا موقع دے دیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرسل صحيح
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 275
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ ، فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ : أَنْ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ، فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ ، فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا ، فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ : هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے بتایا ہاں ! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قُلْتُ لِبِلَالٍ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں ہی سلام کردیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے جواب دیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے دست مبارک سے اشارہ فرما دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوافل کی ممانعت صرف طلوع آفتاب کے وقت ہوا کرتی تھی کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا أَبُو الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، ولم يدرك بلا لا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ ، فَقَامَ يُصَلِّي بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، يُرِيدُ الصَّوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارہ گاہ رسالت میں حاضر ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا خود بھی اس کا پانی نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایا پھر نماز کے لئے مسجد تشریف لے آئے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع، لا يعرف سماع عبدالله بن معقل من بلال
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر ماہ رمضان کی ٢٤ ویں شب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد خولف فيه
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، يَسْأَلُ بِلَالًا : كَيْفَ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : " تَبَرَّزَ ، ثُمَّ دَعَا بِمِطْهَرَةٍ أَيْ إِدَاوَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِ الْعِمَامَةِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : ثُمَّ دَعَا بِمِطْهَرَةٍ بِالْإِدَاوَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کس طرح فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاکر پانی کا برتن منگواتے اور اپنا رخ انور اور دونوں مبارک ہاتھ دھوتے پھر موزوں اور عمامہ پر مسح فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالرحمن، وأبي عبدالله
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ خِمَارٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح من فعله ﷺ لا من قوله، وهذا إسناد قوي
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ خِمَارٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ قَدْ غَلَقَهَا ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا : مَاذَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ، ثُمَّ صَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں جانب اور ایک بائیں جانب اور تین اپنے پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار قبلہ کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ أبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا خود بھی اس کا پانی نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایا پھر نماز کے لئے مسجد تشریف لے آئے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع، لا يعرف سماع عبدالله بن معقل من بلال
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ خِمَارٍ أخبره ، عَنْ بِلَالٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ ، قَضَوْا طَوَافَهُمْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَغَفَلَ عَنْهُ ابْنُ عُمَرَ ، فَلَمَّا أُنْبِئَ بِدُخُولِهِ أَقْبَلَ يَرْكَبُ أَعْنَاقَ الرِّجَالِ ، فَدَخَلَ يَقْتَدِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، فَتَلَقَّاهُ عِنْدَ الْبَابِ خَارِجًا ، فَسَأَلَ بِلَالًا الْمُؤَذِّنَ : كَيْفَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حِيَالَ وَجْهِهِ ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن جب لوگ طواف اور سعی کرچکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوگئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس کا علم نہ ہوسکا جب انہیں اس کی خبر ملی تو وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اندر داخل ہونے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا آمنا سامنا اس وقت ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے تھے انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے کا رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں پھر کچھ دیر دعاء کر کے باہر نکل آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، وَعَبْدَ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 275، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا، لكن روي عنه موصولا
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أخبرنا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : " بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ " ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : سَجْدَتَيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کہاں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا دو ستونوں کے درمیان ( اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ بِلَالًا : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : " كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کہاں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا دو ستونوں کے درمیان ( اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ " جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَوَجَدَهُ يَتَسَحَّرُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کی مسجد میں سحری کرتے ہوئے پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة شداد مولي عياض، ثم هو منقطع، فإنه لم يدرك بلالا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ أَتْيَةً ، فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ ، أَوْ قَالَ : ضَخْم الشَّفَتين وَالْأَنْفِ ، إذا بين يديه سلاح فسألوه وهو يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، " خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : بِلَالٌ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن مرداس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا تو وہاں ایک آدمی نظر آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے اور اس کے سامنے اسلحہ تھا لوگ اس سے پوچھ رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ لوگو ! یہ اسلحہ پکڑو اور اس سے اصلاح کا کام لو اور اس کے ذریعے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمرو بن مرداس، وأبي الورد بن ثمامة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَمَرَّ بِلَالٌ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ ، فَيَتَوَضَّأُ ، وَيَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کس طرح فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاکر پانی کا برتن منگواتے اور اپنا رخ انور اور دونوں مبارک ہاتھ دھوتے پھر موزوں اور کور عمامہ پر مسح فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالله
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أخبرنا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 275
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ بِلَالًا ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ جَعَلَ الْأُسْطُوَانَةَ عَنْ يَمِينِهِ ، وَتَقَدَّمَ قَلِيلًا وَجَعَلَ الْمَقَامَ خَلْفَ ظَهْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر دو رکعتیں پڑھی تھیں ستون کو اپنی دائیں جانب رکھ کر، تھوڑا سا آگے بڑھ کر اور مقام ابراہیم کو اپنی پشت پر رکھ کر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد حسن
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أخبرنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر دو رکعتیں پڑھی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، قَالَ : أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ ، قَالَ : فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا قَائِمًا بَيْنَ الْبَابَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا بِلَالُ ، هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ هَاتَيْنِ السَّارِيَتَيْنِ " ، وَأَشَارَ إِلَى السَّارِيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ عَلَى يَسَارِكِ إِذَا دَخَلْتَ ، قَالَ : " ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے بتایا ہاں ! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ خِمَارٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَاهُ ، قَالَ : اعْتَمَرَ مُعَاوِيَةُ ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دَخَلَ الْبَيْتَ ؟ قَالَ : مَا كُنْتُ مَعَهُ ، وَلَكِنِّي دَخَلْتُ بَعْدَ أَنْ أَرَادَ الْخُرُوجَ ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَسَأَلْتُهُ أَيْنَ صَلَّى ؟ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ " صَلَّى بَيْنَ الأسْطُوَانَتَيْنِ " ، فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے بتایا ہاں ! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادة عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ ، وَأَصْبَحَ جِدًّا ، قَالَ : فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا ، ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا ، قَالَ : " لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ ، فَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی اطلاع دینے کے لئے آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ پوچھنے میں الجھا دیا حتیٰ کہ روشنی ہونے لگی اور خوب روشنی پھیل گئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے گئے اور مسلسل مطلع کرتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہ لائے تھوڑی دیر بعد خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے کچھ پوچھنے لگی تھیں جس کی وجہ سے صبح ہونے لگی تھی پھر آپ نے بھی باہر تشریف لانے میں تاخیر فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس وقت تو صبح خوب روشن ہوگئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے بھی زیادہ روشنی پھیل جاتی تب بھی میں انہیں خوب سنوار کر اور خوبصورت کر کے ضرور پڑھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع بين عبيدالله بن زياد و بلال بن رباح، وما وقع فى هذه الرواية من التصريح بالسماع بينهما ، فهو وهم من أبى المغيرة أو أنه كان يضطرب فيه
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 275، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا، لكن روي عنه موصولا
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُثَوِّبَ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا صَلَاةَ الْفَجْرِ " ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنْتَ فَلَا تُثَوِّبْ . . . ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دے رکھا تھا کہ نماز فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں اذان کے بعد نماز کھڑی ہونے کی اطلاع نہ دیا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، يعتبر بأبي إسرائيل فى المتابعات والشواهد، وقد اضطرب فى هذا الحديث، وابن أبى ليلى لم يدرك بلالا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُثَوِّبَ إِلَّا فِي الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دے رکھا تھا کہ نماز فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں اذان کے بعد نماز کھڑی ہونے کی اطلاع نہ دیا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشوا هده، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، و ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ : ذَكَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ : الْحَكَمُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، " فَأَمَرَنِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ ، وَنَهَانِي عَنِ الْعِشَاءِ " ، فَقَالَ شُعْبَةُ : وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، وَلَا ذَكَرَ إِلَّا إِسْنَادًا ضَعِيفًا ، قَالَ : أَظُنُّ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ أُرَاهُ رَوَاهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دے رکھا تھا کہ نماز فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں اذان کے بعد نماز کھڑی ہونے کی اطلاع نہ دیا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وانظر ما قبله
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد اختلف على الأعمش فى ذكر الواسطة فيه بين أبن أبى ليلى و بلال
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى الْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين ابن أبى ليلى و بلال
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْمُوقَيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده منقطع بين أبى إدريس و بلال
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ " ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی ہے جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی بلکہ اس کے کونوں میں تکبیر کہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ شُعْبَةُ : كَتَبَ إليَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ بِلَالٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے آمین کہہ لینے کا موقع دے دیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرسل صحيح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ ، قَالَ : وَكُنْتُ شَابًّا فَصَعِدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي بِلَالٌ ، فَقُلْتُ له : مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا ؟ قَالَ : " فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، أَيْ : صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد قوي
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَأَنَاخَ يَعْنِي : بِالْكَعْبَةِ ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ ، فَذَهَبَ يَأْتِيهِ بِهِ ، فَأَبَتْ أُمُّهُ أَنْ تُعْطِيَهُ ، فَقَالَ : لَتُعْطِيَنَّهُ أَوْ يَخْرُجُ بِالسَّيْفِ مِنْ صُلْبِي ، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ فَدَخَلَ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ ، وَأُسَامَةُ فَأَجَافُوا الْبَابَ عَلَيْهِمْ مَلِيًّا ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَكُنْتُ رَجُلًا شَابًّا قَوِيًّا فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَبَدَرْتُهُمْ ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا عَلَى الْبَابِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ " ، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عنہ، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں، ان دو ستونوں کے درمیان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329