حدیث نمبر: 22893
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ جَمَعَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : " هَلُمَّ أُصَلِّي صَلَاةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ ، قَالَ : فَدَعَا بِجَفْنَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ، قَالَ : فَصَلَّى الظُّهْرَ , فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں حضرت ابو مالک اشعریین میں سے تھے انہوں نے پانی کا ایک بڑا پیالہ منگوایا اور پہلے تین مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ بازو دھوئے پھر سر اور کانوں کا مسح کیا اور پاؤں کو دھویا اور نماز ظہر پڑھائی جس میں سورت فاتحہ پڑھی اور کل ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل شهر بن حوشب، ووضوؤه ﷺ ثلاثا ثلاثا قد روي عن غير واحد من الصحابة
حدیث نمبر: 22894
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 ، قَالَ : فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ لِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو یہ آیت نازل ہوئی "" یایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء "" اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے تھے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء لیکن ان پر قیامت کے دن اللہ سے قریب ترین نشست کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أصل الحديث صحيح لكن من حديث معاذ بن جبل، وهذا إسناد ضعيف، شهر ضعيف و مضطرب فى هذه الراوية، ثم هو لم يدرك أبا مالك الأشعري
حدیث نمبر: 22895
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ ، فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا ، إِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھ یکے حصے میں سے ایک گز ظلماً لے لیتا ہے ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22896
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ لِقَوْمِهِ : " أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَصَفَّ الرِّجَالُ ، ثُمَّ صَفَّ الْوِلْدَانُ خَلْفَ الرِّجَالِ ، ثُمَّ صَفَّ النِّسَاءُ خَلْفَ الْوِلْدَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنی قوم سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ؟ چنانچہ انہوں نے پہلے مردوں کی صف بنائی مردوں کے پیچھے بچوں کی صف بنائی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : كَانَ مِنَّا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ رَجُلٌ قَدْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَهِدَ مَعَهُ الْمَشَاهِدَ الْحَسَنَةَ الْجَمِيلَةَ ، قَالَ عَوْفٌ : حَسِبْتُ أَنَّهُ يُقَالُ لَهُ : مَالِكٌ , أَو أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " لَقَدْ عَلِمْتُ أَقْوَامًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو یہ آیت نازل ہوئی " یایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء " اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے تھے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء لیکن ان پر قیامت کے دن اللہ سے قریب ترین نشست کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لكن من حديث معاذ بن جبل، وهذا إسناد ضعيف، شهر ضعيف وقد اضطرب فى هذه الرواية، ثم هو لم يدرك مالكا أو أيا مالك
حدیث نمبر: 22898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ : " اجْتَمِعُوا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا , قَالَ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ قَالُوا : لَا , إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا , قَالَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ , فَدَعَا بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ، فَكَبَّرَ بِهِمْ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَأَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں حضرت ابو مالک اشعریین میں سے تھے انہوں نے پانی کا ایک بڑا پیالہ منگوایا اور پہلے تین مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے پھر کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ بازو دھوئے پھر سر اور کانوں کا مسح کیا اور پاؤں کو دھویا اور نماز ظہر پڑھائی جس میں سورت فاتحہ پڑھی اور کل ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22899
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : يَا سَامِعَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا اے سننے والے اشعریو ! تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں میں نے نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا کی مٹھاس آخرت کی تلخی ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی مٹھاس ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يسمع أبا مالك
حدیث نمبر: 22900
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ فِي خِلَافَةِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : اذْكُرُوا الطِّلَاءَ , فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ كَذَا ، قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " , وَالَّذِي حَدَّثَنِي أَصْدَقُ مِنِّي وَمِنْكَ ، وَالَّذِي حَدَّثَنِي بِهِ أَصْدَقُ مِنْهُ وَمِنِّي , فَقَالَ : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّدَهُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : أُفٍّ لَهُ مِنْ شَرَابِ آخِرِ الدَّهْرِ . .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ربیعہ جرشی کے ساتھ بیٹھے ضحاک بن قیس کی نیابت میں انگور کی شراب کا تذکرہ کر رہے تھے اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لے آئے ہم نے ان سے اپنی گفتگو میں شامل ہونے کو کہا چنانچہ ہم اس پر گفتگو کرتے رہے تو حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر ضرور پئیں گے۔ جس شخص نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے وہ مجھ سے اور تم سے زیادہ سچے تھے اور جس نے ان سے یہ بات بیان کی تھی وہ ان سے مجھ سے اور تم سے زیادہ سچے تھے اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے یہ حدیث حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور تین مرتبہ یہ بات دہرائی حتیٰ کہ ضحاک کہنے لگے آخر دور میں شراب پر تف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك بن أبى مريم
حدیث نمبر: 22901
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ , أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ لِقَوْمِهِ : فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ سَعيْدٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَيُسْمِعُ مَنْ يَلِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر دکھاؤں۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھی اور پیچھے والوں کو اس کی آواز سنائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22902
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، قَالَ عَفَّانُ : وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ ، وَقَالَ عَفَّانُ : مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کردیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 223، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك الأشعري
حدیث نمبر: 22903
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 934، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك
حدیث نمبر: 22904
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَالِكٍ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي أُمَّتِي أَرْبَعًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَيْسُوا بِتَارِكِيهِنَّ : الْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ ، فَإِنَّهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 934، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك
حدیث نمبر: 22905
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ , أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا ، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ ، وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک بالا خانہ ایسا بھی ہے جس کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے یہ اللہ نے اس شخص کے لئے تیار کیا ہے جو لوگوں کو کھانا کھلائے نرمی سے بات کرے، تسلسل کے ساتھ روزے رکھے اور اس وقت نماز پڑھے جب لوگ سو رہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إن كان ابن معانق سمعه من أبى مالك
حدیث نمبر: 22906
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ , اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ ، أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي صَلَّى لَنَا بِالْمَدِينَةِ فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ ، فَتَوَضَّأَ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ ، فَأَحْصَى الْوُضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ ، وَانْكَسَرَ الظِّلُّ ، قَامَ فَأَذَّنَ ، فَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ ، وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ , ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " , وَاسْتَوَى قَائِمًا ، ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا ، فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ ، وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ احْفَظُوا تَكْبِيرِي ، وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذَي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ " ز ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ ! انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي : صِفْهُمْ لَنَا ، فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا ، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا ، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنی قوم کو جمع کر کے فرمایا اے گروہ اشعریین ! خود بھی ایک جگہ جمع ہوجاؤ اور اپنے بیوی بچوں کو بھی جمع کرلو تاکہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز سکھادوں " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں پڑھائی تھی چنانچہ وہ سب جمع ہوگئے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی جمع کرلیا " پھر انہوں نے لوگوں کو وضو کر کے دکھایا اور ہر عضو پر خوب احتیاط سے وضو کر کے تمام اعضاء کا احاطہ کیا اور جب سایہ لوٹنا شروع ہوا تو انہوں نے کھڑے ہو کر اذان دی پھر سب سے پہلے مردوں کی صفیں بنائیں ان کے پیچھے بچوں کی اور ان کے پیچھے عورتوں کی پھر اقامت کہلوائی اور آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ سب سے پہلے دونوں ہاتھ بلند کئے اور تکبیر کہی پھر سری طور پر سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی اور تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے اس طرح پہلی رکعت میں چھ تکبیریں ہوئیں اور دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے ہوئے بھی تکبیر کہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میری تکبیرات کو یاد رکھو اور میرا رکوع و سجود سیکھ لو کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی نماز ہے جو اس وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پڑھاتے تھے ایک دن اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر اپنا رخ زیب لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا لوگو ! سنو سمجھو اور یقین رکھو کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو نبی یا شہید تو نہ ہوں گے لیکن قرب الہٰی اور نشست کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اس پر سب سے آخر میں بیٹھے ہوئے ایک دیہاتی نے گھٹنوں کے بل جھک کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں کے اوصاف ہم سے بیان فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کا یہ سوال سن کر خوش ہوئے اور فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نسب نامہ لوگوں میں معروف ہوگا اور نہ ہی قبیلہ بلکہ اجنبی قبائل سے تعلق رکھتے ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی قریبی رشتہ داری نہ ہوگی وہ اللہ کی وجہ سے کسی سے محبت کرتے اور صف بندی کرتے ہوں گے قیامت کے دن اللہ ان کے لئے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا ان کے چہرے نورانی کر دے گا اور ان کے کپڑے نور کے ہوں گے قیامت کے دن تمام لوگ خوفزدہ ہوں گے لیکن وہ خوفزدہ نہ ہوں گے یہ وہی اولیاء اللہ ہوں گے جن پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22907
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَهُ دَعَا لَهُ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عُبَيْدٍ أَبِي مَالِكٍ ، وَاجْعَلْهُ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں یہ دعاء فرمائی ہے اے اللہ ! عبید ابو مالک پر اپنی رحمت نازل فرما اور اسے بہت سے لوگوں کے اوپر فوقیت عطا فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكنه معلُّ بالارسال
حدیث نمبر: 22908
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الطُّهْرُ شَطْرُ الْإِيمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو ، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفائی ایمان کا حصہ ہے الحمد للہ کہنا میزان عمل کو بھر دیتا ہے (سبحان اللہ، اللہ اکبر) لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے صبر روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے اور ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے پھر کوئی اسے ہلاک کردیتا ہے اور کوئی اسے آزاد کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك
حدیث نمبر: 22909
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ " , فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ نُورٌ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، لم يثبت سماع عبد الرحمن الأشعري من النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 22910
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرَاهُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ آمُرُكُمْ بِالسَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالْجَمَاعَةِ ، وَالْهِجْرَةِ ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ رَأْسِهِ ، وَمَنْ دَعَا دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ جُثَاءُ جَهَنَّمَ " , قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ، وَلَكِنْ تَسَمَّوْا بِاسْمِ اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ عِبَادَ اللَّهِ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں بات سننے اور اطاعت کرنے جماعت مسلمین سے وابستہ رہنے ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا پھر جو شخص جماعت مسلمین سے ایک بالشت کے برابر بھی نکلتا ہے تو وہ اپنے سر میں سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے اور جو شخص زمانہ جاہلیت کی پکار لگائے وہ جہنم کا خس و خاشاک ہے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ روزہ رکھتا اور نماز پڑھتا ہو البتہ اے بندگان خدا ! تم ان لوگوں کو ان ناموں سے پکارا کرو جو اللہ نے رکھا ہے یعنی مسلمان اور مؤمن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22911
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , وَلَيْثٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ ، لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ ، وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعتوں میں قرأت اور قیام برابر کرتے تھے اور پہلی رکعت کو نستباً لمبا کردیتے تھے تاکہ لوگ اس میں شریک ہوجائیں اور صف بندی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو لڑکوں سے آگے رکھتے بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے رکھتے تھے اور جب سجدے میں جاتے یا اس سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22912
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ " ، وَقَالَ " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اپنے حسب پر فخر کرنا دوسروں کے حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کی شلوار یا خارش والی قمیض ہوگی (جو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے تیار ہوگی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو سلام لم يسمع من أبى مالك
حدیث نمبر: 22913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمِهِ : " قُومُوا صَلُّوا حَتَّى أُصَلِّيَ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَصَفُّوا خَلْفَهُ ، فَكَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاؤں چنانچہ لوگوں نے ان کے پیچھے صف بندی کی انہوں نے تکبیر کہہ کر رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر (سجدے میں گئے) اور ساری نماز میں اس طرح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22914
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ أَوْ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ لِلدَّارِ ، فَيَقْتَسِمَانِ فَيَسْرِقُ أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَيُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلماً لے لیتا ہے ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22915
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ : الْأَشْعَرِيُّ وَقَالَ : " إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22916
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، عَنْ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : الْأَشْجَعِيُّ ، أَوْ قَالَ : الْأَشْعَرِيُّ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: .....
حدیث نمبر: 22917
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الْأَشْجَعِيُّ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22918
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطْ يَدِهِ: حُدِّثْتُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ (۱) الْوَاقِفِيِّ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي وَاقِفٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكِ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ: وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، والعباس بن الفضل متروك