حدیث نمبر: 18037
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ ، فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ ، وَأَسْلَمْنَا ، فَمَنْ وَلِيُّنَا ؟ قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ " قَالُوا : حَسْبُنَا رَضِينَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے، ان میں وہ خود بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی بیعت اور قبول اسلام کی اطلاع دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت و اسلام کو قبول فرما لیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کس قبیلے سے ہے اور ہم جہاں سے آئے ہیں وہ بھی آپ کے علم میں ہے، اب ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو ہمارا ولی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہنے لگے کہ ہمارے لئے یہ کافی ہے اور ہم اس پر راضی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين الأوزاعي والديلمي، والواسطة بينهما راو ثقة
حدیث نمبر: 18038
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ هَيْثَمٌ : مَرَّةً عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ ، فَمَنْ وَلِيُّنَا ؟ قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تلعق کس قبیلے سے ہے اور ہم جہاں سے آئے ہیں وہ بھی آپ کے علم میں ہے، اب ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو ہمارا ولی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18039
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، أَخْبَرَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَةً عُرْوَةً ، كَمَا يُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک وقت ایسا بھی ضرور آئے گا جب اسلام کی رسی کا ایک ایک دھاگہ نکال نکال کر توڑ دیا جائے گا جیسے عام رسی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، ضمرة بن ربيعة اضطرب فى هذا الحديث، فرواه هنا مرفوعاً، ورواه بنحوه عن عبدالله بن فيروز الديلمي قوله
حدیث نمبر: 18040
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، أَنَّ أَبَاهُ فَيْرُوزَ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ " . وقَالَ يَحْيَى مَرَّةً حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامَ.
مولانا ظفر اقبال
ضحاک بن فیروز کہتے ہیں کہ ان کے والد فیروز رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کو جسے تم چاہو طلاق دے دو ۔ ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 18041
حَدَّثَنَا مَوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ ، " فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب اسلام قبول کیا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کو جسے تم چاہو طلاق دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 18042
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ ، وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، فَمَا نَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : " تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا " . قَالَ : فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا ؟ قَالَ : " تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ ، وَتُنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، فَمَنْ وَلِيُّنَا ؟ قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : قُلْتُ : حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ انگوروں والے ہیں، اب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوگیا ہے، لہذا ہم اپنے انگوروں کا کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی کشمش بنا لو، میں نے عرض کیا کہ ہم کشمش کا کیا کریں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کے وقت پانی میں بھگو کر رات کو پی لو اور رات کے وقت پانی میں بھگو کر صبح پی لو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کن لوگوں سے ہے اور آپ کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ آپ کے پاس کن لوگوں کے درمیان ہم اترے ہیں، یہ بتائیے ! کہ ہمارا ولی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے یہ کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن