حدیث نمبر: 9938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ يعني مَوْلَى أَبِي رَهْمٍ ، قََالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنَ الْمَسْجِد ، فَرَأَى امْرَأَةً تَنْضَخُ طِيبًا لِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ ، قََالَ : يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ ، مِنَ الْمَسْجِدِ جِئْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قََالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قََالَ : فَارْجِعِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةً تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ أَوْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ , حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اسے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبو لگا رکھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم