حدیث نمبر: 18042
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَكَرْمٍ ، وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، فَمَا نَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : " تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا " . قَالَ : فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا ؟ قَالَ : " تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ ، وَتُنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، وَنَحْنُ نُزُولٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، فَمَنْ وَلِيُّنَا ؟ قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : قُلْتُ : حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ انگوروں والے ہیں، اب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوگیا ہے، لہذا ہم اپنے انگوروں کا کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی کشمش بنا لو، میں نے عرض کیا کہ ہم کشمش کا کیا کریں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کے وقت پانی میں بھگو کر رات کو پی لو اور رات کے وقت پانی میں بھگو کر صبح پی لو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کن لوگوں سے ہے اور آپ کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ آپ کے پاس کن لوگوں کے درمیان ہم اترے ہیں، یہ بتائیے ! کہ ہمارا ولی کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے یہ کافی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن