حدیث نمبر: 13589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ ، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 622