حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْفِقِي أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
حفص بن غیاث نے ہشام سے انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے اور انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”(مال کو) خرچ کرو۔۔۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا (پانی کی طرح) بہاؤ۔۔۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 1029
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْفَحِي أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " ،
محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے عباد بن حمزہ اور فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مال کو) ہر طرف خرچ کرو۔۔۔ یا (پانی کی طرح) بہاؤ یا خرچ کرو۔۔۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمہیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھال کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھال کر رکھے گا۔“
حدیث نمبر: 1029
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں ہشام نے عباد بن حمزہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا۔۔۔ ان (مذکورہ بالا راویوں) کی حدیث کے مانند۔
حدیث نمبر: 1029
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ ، فَقَالَ : " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
عباد بن عبداللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، اے اللہ کے نبی! جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے مطابق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھال کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے سنبھال کر رکھے گا۔“