باب: پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔
حدیث 2263–2271
باب: عشر اور نصف عشر کا بیان۔
حدیث 2272–2272
باب: غلام اور گھوڑے پر زکوٰۃ نہیں۔
حدیث 2273–2276
باب: زکوٰۃ کی تقدیم اور اس سے روکنا۔
حدیث 2277–2277
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر کا بیان۔
حدیث 2278–2287
باب: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
حدیث 2288–2289
باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
حدیث 2290–2297
باب: زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو راضی کرنے کا بیان۔
حدیث 2298–2299
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
حدیث 2300–2303
باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
حدیث 2304–2305
باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
حدیث 2306–2307
باب: سخاوت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2308–2309
باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان۔
حدیث 2310–2312
باب: پہلے اپنی ذات پر، پھر اپنے گھر والوں پر، پھر قرابت والوں پر خرچ کرنے کا بیان۔
حدیث 2313–2314
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
حدیث 2315–2325
باب: میت کے ایصال ثواب کا بیان۔
حدیث 2326–2327
باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث 2328–2335
باب: سخی اور بخیل کے بارے میں۔
حدیث 2336–2336
باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث 2337–2341
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
حدیث 2342–2346
باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
حدیث 2347–2354
باب: «حمال» (قلی وغیرہ) مزدوروں کو بھی صدقہ کرنا چاہئیے اور تھوڑی مقدار میں صدقہ کرنے والوں کی اہانت کرنے کو سختی سے منع فرمایا۔
حدیث 2355–2356
باب: دودھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت۔
حدیث 2357–2358
باب: سخی اور بخیل کی مثال۔
حدیث 2359–2361
باب: صدقہ دینے والے کو ثواب ہے اگرچہ صدقہ اس کے حقدار کو نہ پہنچے۔
حدیث 2362–2362
باب: خازن امانتدار اور عورت کو صدقہ کا ثواب ملنا جب وہ اپنے شوہر کی اجازت سے خواہ صاف اجازت ہو یا دستور کی راہ سے اجازت ہو صدقہ دے۔
حدیث 2363–2367
باب: غلام کا اپنے مالک کے مال سے خرچ کرنا۔
حدیث 2368–2370
باب: صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2371–2374
باب: خرچ کرنے کی فضیلیت اور گن گن کر رکھنے کی کراہت۔
حدیث 2375–2378
باب: تھوڑے صدقہ کی فضیلت اور اس کو حقیر نہ جاننے کا بیان۔
حدیث 2379–2379
باب: صدقہ کو چھپا کر دینے کی فضیلت۔
حدیث 2380–2381
باب: خوش حالی اور تندرستی میں صدقہ کرنے کی فضیلت۔
حدیث 2382–2384
باب: صدقہ دینا افضل ہے لینا افضل نہیں۔
حدیث 2385–2388
باب: سوال کرنے کی ممانعت۔
حدیث 2389–2392
باب: مسکین کون ہے؟
حدیث 2393–2395
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
حدیث 2396–2403
باب: کس شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے؟
حدیث 2404–2404
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
حدیث 2405–2409
باب: حرص دنیا کی مذمت۔
حدیث 2410–2414
باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
حدیث 2415–2419
باب: قناعت کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان۔
حدیث 2420–2420
باب: دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو۔
حدیث 2421–2423
باب: صبر و قناعت کی فضیلت۔
حدیث 2424–2425
باب: کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا بیان۔
حدیث 2426–2427
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
حدیث 2428–2432
باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
حدیث 2433–2435
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
حدیث 2436–2448
باب: خوارج اور ان کی صفات کا ذکر۔
حدیث 2449–2461
باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
حدیث 2462–2468
باب: خوارج کا ساری مخلوق سے بدتر ہونے کا بیان۔
حدیث 2469–2472
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب پر زکوٰۃ حرام ہے۔
حدیث 2473–2480
باب: آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کو استعمال نہ کرنے کا بیان۔
حدیث 2481–2482
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر ہدیہ حلال ہے۔
حدیث 2483–2490
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا اور صدقہ کو رد کرنا۔
حدیث 2491–2491
باب: صدقہ لانے والے کو دعا دینے کا بیان۔
حدیث 2492–2493
باب: تحصیلدار زکوٰۃ کو راضی رکھنے کا بیان جب تک وہ مال حرام طلب نہ کرے۔
حدیث 2494–2494
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔