کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً ، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً ، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، قَالَ : ثُمَّ مَشَيْنَا ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ ، قَالَ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ، قَالَ : فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ ، قَالَ : فَقَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي ، فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی پتھریلی زمین میں چل رہا تھا۔ اور ہم احد پہاڑ دیکھ رہے تھے۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں، آپﷺ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کی شکل میں موجود ہو اور تیسری شام اس صورت میں آئے کہ میرے پاس اس سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے تیار رکھوں۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں خرچ یا تقسیم کر دوں، اس طرف (آپﷺ نے مٹھی بھر کر آگے ڈالا) اور اس طرح دائیں طرف اور اس طرح بائیں طرف، پھر ہم چلتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حاضر ہوں آپﷺ نے فرمایا: ”(زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم رتبہ ہوں گے) مگر جس نے ادھر اُدھر ہر جگہ خرچ کیا۔‘‘ آپﷺ نے پہلے کی طرح (آگےدائیں بائیں) کی طرف اشارہ فرمایا: پھر ہم چل پڑے آپﷺ نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے آنے تک اس حالت میں رہنا یعنی یہیں ٹھہرے رہنا کہیں نہ جانا آپﷺ چلے گئے حتی کہ میری نظروں سے چھپ گئے میں نے شور اور آواز سنی تو میں نے دل میں کہا۔ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دشمن کا سامنا ہے تو میں نے آپﷺ کے پاس پہنچنے کا قصد کیا۔ پھر مجھے آپﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا تو میں نے آپﷺ کا انتظار کیا تو جب آپﷺ تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا تذکرہ کیا جو میں نے سنی تھیں تو آپﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل ؑ تھے میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپﷺ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل علیہ السلام!اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو؟ اس نے جواب دیا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کا ارتکاب کیا ہو۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 94
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ ، قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ " ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا " ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ : " اجْلِسْ هَا هُنَا " ، قَالَ : فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ ، فَقَالَ لِي : " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى " ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ، فَقَالَ : بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ " .
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر، آ جاؤ۔“ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: ”بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔“ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔“ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: ”خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔“ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ فرمایا: میں نے پھر کہا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 94
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»