کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 216
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ .
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار (افراد) بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ ایک آدمی نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔‘ آپ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر۔“ پھر ایک اور کھڑا ہوا اور کہا: ’اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔‘ آپ نے جواب دیا: ”عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 216
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14370)»
حدیث نمبر: 216
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ .
شعبہ نے کہا: میں نے محمد بن زیاد سے حدیث سنی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے... (آگے) ربیع کی حدیث کی طرح (ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 216
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14398)»
حدیث نمبر: 216
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا ، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا، وہ ستر ہزار افراد ہوں گے، ان کے چہرے اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح چودھویں رات کو ماہ کامل چمکتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (اس پر) حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی سرخ، سفید اور سیاہ دھاریوں والی چادر بلند کرتے ہوئے اٹھے اور عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک انصاری کھڑا ہوا اور کہا: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 216
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب برقم (6542) انظر ((التحفة)) برقم (13332)»
حدیث نمبر: 217
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا زُمْرَةٌ ، وَاحِدَةٌ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے، ایک ہی گروہ چاند سی صورت و شکل پر۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 217
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15468)»
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالُوا : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ .
محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟‘ آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے، نہ دم کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔“ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ’اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”تم ان میں سے ہو۔“ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے (بھی) ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10841)»
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هُمُ الَّذِينَ ، لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو دم نہیں کرواتے، نہ بدشگونی پکڑتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 218
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10819)»
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ، أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ ، لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا ، قَالَ : مُتَمَاسِكُونَ ، آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ ، وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد (ابو حازم رحمہ اللہ کو شک ہے، کہ سہل رحمہ اللہ نے کون سا عدد بتایا) جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے، کہ وہ ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے اکٹھے ہوں گے۔ ان میں پہلا فرد اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک آخری فرد داخل نہیں ہو گا، ان کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 219
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6554) انظر ((التحفة)) برقم (4715) 366»
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ ، قَالَ : فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : اسْتَرْقَيْتُ ، قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، فَقَالَ : وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ ؟ قُلْتُ : حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ، فَقَالَ : قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي ، فَقِيلَ لِي : هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : هَذِهِ أُمَّتُكَ ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ ؟ ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین بن عبدالرحمن نے خبر دی۔ کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے پوچھا: تم میں سے وہ ستارہ کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا؟ میں نے کہا: میں نے۔ پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے دم کروایا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی۔ انہوں نے پوچھا: شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا: انہوں نے ہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کے ڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں۔ تو سعید نے کہا: جس نے سنا، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا۔ لیکن ہمیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا: ”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی اور نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا۔ اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی، مجھے گمان ہوا کہ یہ میری امت ہے۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔ لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں۔“ میں نے دیکھا تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھے بتایا گیا: یہ آپ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ایسے ستر ہزار (لوگ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ پھر آپ اٹھے اور اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے بعض نے کہا: شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ بعض نے کہا: شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔ اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ پھر کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو؟“ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ شگون لیتے ہیں، اور وہ اپنے رب پر پورا توکل کرتے ہیں۔“ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: دعا فرمائیے! اللہ مجھے (بھی) ان میں سے کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: ”عکاشہ اس فرمائش کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء وفاة موسى ذكره بعد حدیث (3410) مختصراً وفى الطب، باب: مناکتوی، او کوی غیره، وفضل من لم يكتو برقم (5705) وفي باب: من لم يرق برقم (5752) وفي الرقاق، باب: ﴿ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ برقم (6472) وفي، باب: يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب برقم (6541) والترمذي في ((جـامـعـه)) في الزهد، باب: 16 برقم (22446) وقال: هذا حديث حسن صحيح ((تحفة الاشراف)) (5493)»
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔“ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم رحمہ اللہ کی طرح بیان کیا، اور حدیث کا ابتدائی حصہ (حصین رحمہ اللہ کا واقعہ) بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (526)»