باب: ایمان اور اسلام اور احسان کا بیان اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان کا بیان۔
حدیث 93–96
باب: ایمان کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان۔
حدیث 97–98
باب: اسلام کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان۔
حدیث 99–99
باب: نمازوں کا بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے۔
حدیث 100–101
باب: اسلام کے ارکان پوچھنے کا بیان۔
حدیث 102–103
باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
حدیث 104–110
باب: اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کا بیان۔
حدیث 111–114
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
حدیث 115–120
باب: لوگوں کو شہادتین کی طرف بلانے اور اسلام کے ارکان کا بیان۔
حدیث 121–123
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
حدیث 124–131
باب: بیان اس بات کا کہ جو شخص مرتے وقت مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے جب تک حالت نزع نہ ہو یعنی جان کنی نہ شروع ہو اور مشرکین کے لیے دعا کرنا منع ہے اور جو شرک پر مرے گا وہ جہنمی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا۔
حدیث 132–135
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
حدیث 136–150
باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کو رب، اسلام کو دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہو وہ مومن ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے۔
حدیث 151–151
باب: ایمان کی شاخوں کی تعداد، اور افضل اور ادنیٰ ایمان کا بیان، اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث 152–158
باب: اسلام کے جامع اوصاف کا بیان۔
حدیث 159–159
باب: خصائل اسلام کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اسلام میں کون سا کام افضل ہے۔
حدیث 160–164
باب: ان خصلتوں کا بیان جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
حدیث 165–167
باب: اہل خانہ، اولاد، والدین بلکہ تمام انسانوں سے بڑھ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ضروری ہے۔ اور جس کا دل ایسی محبت سے خالی ہے وہ مومن نہیں۔
حدیث 168–169
باب: اس بات کا بیان کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ جو اچھی چیز اپنے لیے پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے۔
حدیث 170–171
باب: پڑوسی کو تکلیف پہنچانا حرام ہے۔
حدیث 172–172
باب: ہمسایہ اور مہمان کی خاطرداری کرنے کی ترغیب، اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔
حدیث 173–176
باب: اس بات کا بیان کہ بری بات سے منع کرنا ایمان کی علامت ہے، اور یہ کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر دونوں واجب ہیں۔
حدیث 177–180
باب: ایمان داروں کا ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت، اور یمن والوں کی ایمان میں ترجیح۔
حدیث 181–193
باب: جنت میں صرف مومن جائیں گے، اور مومنوں سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور سلام کو عام کرنا محبت کا سبب ہے۔
حدیث 194–195
باب: دین خیرخواہی کا نام ہے۔
حدیث 196–201
باب: گناہوں سے ایمان کے گھٹ جانے اور بوقت گناہ گنہگار سے ایمان کے جدا ہو جانے یعنی گناہ کرتے وقت ایمان کا کامل نہ رہنے کا بیان۔
حدیث 202–209
باب: منافق کی خصلتوں کا بیان۔
حدیث 210–214
باب: مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے ایمان کے حال کا بیان۔
حدیث 215–217
باب: علم کے باوجود اپنے باپ کے سوا اور کسی کا بیٹا کہلانے والے کے ایمان کا حال۔
حدیث 218–220
باب: اس حدیث کا بیان کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
حدیث 221–222
باب: اس حدیث کا بیان کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ ہو جانا۔
حدیث 223–226
باب: نسب میں طعن کرنے والے اور میت پر نوحہ کرنے والے پر کفر کا اطلاق۔
حدیث 227–227
باب: بھاگے ہوئے غلام کو کافر کہنے کا بیان۔
حدیث 228–230
باب: اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے۔
حدیث 231–234
باب: انصار اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
حدیث 235–240
باب: عبادات کی کمی سے ایمان کا گھٹنا، اور کفر کا کفران نعمت پر اطلاق کا بیان۔
حدیث 241–243
باب: تارک الصلاۃ پر کفر کے اطلاق کا بیان۔
حدیث 244–247
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
حدیث 248–256
باب: شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس کے بعد بڑے گناہوں کا بیان۔
حدیث 257–258
باب: کبیرہ گناہوں اور اکبر الکبائر کا بیان۔
حدیث 259–264
باب: تکبر کے حرام ہونے کا بیان۔
حدیث 265–267
باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
حدیث 268–273
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حدیث 274–279
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جو آدمی ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حدیث 280–282
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حدیث 283–284
باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
حدیث 285–289
باب: چغل خوری کی شدید اور سخت حرمت کا بیان۔
حدیث 290–292
باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
حدیث 293–299
باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
حدیث 300–308
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کی حرمت اور یہ کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔
حدیث 309–310
باب: خودکشی کرنے والے کے کافر نہ ہونے کی دلیل۔
حدیث 311–311
باب: قرب قیامت میں ہوا کا ان لوگوں کو اٹھا لینا جن کے دلوں میں تھوڑا بھی ایمان ہو گا۔
حدیث 312–312
باب: فتنہ فساد پھیلنے سے پہلے نیک اعمال کی ترغیب۔
حدیث 313–313
باب: مومن کا اپنے اعمال ضائع ہونے سے ڈرنا۔
حدیث 314–317
باب: کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہو گا؟
حدیث 318–320
باب: اسلام، ہجرت، اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔
حدیث 321–322
باب: اسلام لانے کے بعد کافر کے سابقہ اعمال کا حکم۔
حدیث 323–326
باب: ایمان کی سچائی اور خلوص کا بیان۔
حدیث 327–328
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
حدیث 329–330
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں۔
حدیث 331–333
باب: بندے کے نیکی کے ارادے کو لکھنے کا، اور بدی کے ارادے کو نہ لکھنے کا بیان۔
حدیث 334–339
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
حدیث 340–352
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
حدیث 353–359
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
حدیث 360–362
باب: رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والے حاکم کے لیے جہنم کی وعید۔
حدیث 363–366
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
حدیث 367–371
باب: اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور انتہاء میں بھی اجنبی ہو جائے گا اور دو مسجدوں میں سمٹ جائے گا۔
حدیث 372–374
باب: آخر زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا۔
حدیث 375–376
باب: خوف زدہ کے لیے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کا جواز۔
حدیث 377–377
باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
حدیث 378–381
باب: دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
حدیث 382–384
باب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث 385–388
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
حدیث 389–395
باب: اس زمانے کا بیان جب ایمان مقبول نہ ہو گا۔
حدیث 396–402
باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
حدیث 403–410
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
حدیث 411–424
باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
حدیث 425–430
باب: سدرۃ المنتہیٰ کا بیان۔
حدیث 431–431
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
حدیث 432–442
باب: اس بات کا بیان کہ یہ فرمانا وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں اور یہ فرمان کہ میں نے نور دیکھا۔
حدیث 443–444
باب: اس قول کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور یہ قول کہ اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس کو کھول دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں۔
حدیث 445–447
باب: اللہ تعالیٰ کا دیدار مؤمنوں کو آخرت میں ہو گا۔
حدیث 448–450
باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
حدیث 451–456
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
حدیث 457–460
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
حدیث 461–463
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
حدیث 464–482
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا شخص ہوں گا جنت کے متعلق سفارش کرنے والا اور باقی نبیوں سے میرے تابع دار زیادہ ہوں گے“۔
حدیث 483–486
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
حدیث 487–498
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا اپنی امت کے لئے اور رونا ان کے حال پر شفقت سے۔
حدیث 499–499
باب: جو شخص کفر پر مرے وہ جہنم میں جائے گا اور اس کی شفاعت نہ ہو گی اور بزرگوں کی بزرگی اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔
حدیث 500–500
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
حدیث 501–509
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
حدیث 510–513
باب: آگ کا عذاب جس کو سب سے کم ہو گا۔
حدیث 514–517
باب: کفر کی حالت میں مرنے والے شخص کو اس کا کوئی عمل کام نہ آئے گا۔
حدیث 518–518
باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان۔
حدیث 519–519
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث 520–528
باب: جنت کے آدھے لوگ اس امت کے ہوں گے۔
حدیث 529–531
باب: اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو کہیں گے کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخی نکال لو۔ (ایک جنتی باقی دوزخی)
حدیث 532–533
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔