کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 188
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ : سَلْ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ ، قَالَ اللَّهُ : هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فَتَقُولَانِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ .
حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبہ وہ آدمی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے جنت کی طرف پھیر دے گا، اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت نظر آئے گی، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے میں، اس کے سایہ میں رہوں گا۔“ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تجھے مجھ سے مانگنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے...۔“ آخر تک، اور اس میں اتنا اضافہ ہے ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا، فلاں فلاں چیز کا سوال کر! اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تجھے ملے گا اور اس سے دس گنا زائد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا، اور حور العین سے اس کی دونوں بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: شکر کے لائق وہ اللہ ہے جس نے تجھے ہمارے لیے زندہ کیا، اور ہمیں تیرے لیے زندگی دی۔ آپ نے فرمایا: تو وہ کہے گا: جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے، وہ کسی ایک کو نہیں دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 188
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4392)»
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سمعا الشعبي يخبر ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ سُفْيَانُ : رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا ، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ ، قَالَ : " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ : مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ؟ قَالَ : هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ كَيْفَ ؟ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ فَيَقُولُ : رَضِيتُ رَبِّ ، فَيَقُولُ : لَكَ ذَلِكَ ، وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، فَقَالَ : فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ ، فَيَقُولُ : هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ، فَيَقُولُ : رَضِيتُ رَبِّ ، قَالَ : رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً ، قَالَ : أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا ، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ : وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 الآيَة " .
ہمیں سعید بن عمر اشعثی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف اور (عبدالملک) ابن ابجر سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، ان شاء اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ) روایت کے طور پر سنا، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے ان سے منبر پر سنا، وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا (روایت کے الفاظ انہی کے ہیں) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے شعبی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو (یہ) حدیث سنا رہے تھے۔ سفیان نے کہا: ان دونوں (استادوں) میں سے ایک (میرا خیال ہے ابن ابجر) نے اس روایت کو مرفوعاً (جسے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو) بیان کیا، آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے پوچھا: ’جنت میں سب سے کم درجے کا (جنتی) کون ہو گا؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وہ (ایسا) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔‘ تو اس سے کہا جائے گا: ’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ اللہ فرمائے گا: ’وہ (ملک) تمہارا ہوا، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور۔‘ پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار) کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہو گیا۔‘ اللہ عز وجل فرمائے گا: ’یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ پھر (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ’اے پروردگار! تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی (جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘“ فرمایا: اس کا مصداق اللہ عز وجل کی کتاب میں موجود ہے: ”کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 189
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة السجدة وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3198) انظر ((التحفة)) برقم (11503) 329»
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا: ”بے شک موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عز و جل سے پوچھا: کہ اہل جنت سے سب سے کم تر درجہ یا قلیل حصہ کس کا ہوگا؟“ اور مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 189
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (464)»
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا ، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا ، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ ، فَيُقَالُ : عَمِلْتَ يَوْمَ ، كَذَا ، وَكَذَا ، كَذَا ، وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ يَوْمَ ، كَذَا ، وَكَذَا ، كَذَا ، وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً ، فَيَقُولُ : رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سے سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ’اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو (ایک طرف ہٹا دو۔)‘ تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا: ’فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے۔‘ وہ کہے گا: ’ہاں،‘ وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہو گا، (اس وقت) اسے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے۔‘ تو وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں نے بہت سے ایسے (برے) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔‘“ میں (ابوذر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين، وما ذكر من يخرج من النار من اهل التوحيد وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2596) انظر ((التحفة)) برقم (11983)»
حدیث نمبر: 190
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 190
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (466)»
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلاهما ، عَنْ رَوْحٍ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ ، فَقَالَ : نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا ، وَكَذَا ، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ ، قَالَ : فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا ، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ : مَنْ تَنْظُرُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَنْظُرُ رَبَّنَا ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ ، وَيَتَّبِعُونَهُ ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ ، أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ ، كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ كَذَلِكَ ، ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ ، حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا " .
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے (جنت اور جہنم میں) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم قیامت کے دن فلاں فلاں (سمت) سے آئیں گے (دیکھو)، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کے اوپر ہے۔ کہا: سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن (معبودوں) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی، ایک کے بعد ایک، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا: ’تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟‘ تو وہ کہیں گے: ’ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔‘ وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو سب کہیں گے: ’(اس وقت) جب ہم تمہیں دیکھ لیں۔‘ تو وہ ہنستا ہوا ان کے سامنے جلوہ افروز ہو گا۔ انہوں نے کہا: وہ انہیں لے کر جائے گا اور وہ اس کے پیچھے ہوں گے، ان میں ہر انسان کو، منافق ہو یا مومن، ایک نور دیا جائے گا، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ جو نجات پائے گا، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے، (وہ) ستر ہزار ہوں گے، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اسی طرح (درجہ بدرجہ۔) اس کے بعد پھر شفاعت کا مرحلہ آئے گا اور (شفاعت کرنے والے) شفاعت کریں گے حتیٰ کہ ہر وہ شخص جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا ہو گا اور جس کے دل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی (ایمان) ہو گی، انہیں جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتیٰ کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس (کے جسم) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتیٰ کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2841)»
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ ، فَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ " .
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے اپنے دونوں کانوں سے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2545)»
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَار : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ " ، قَالَ : نَعَمْ .
حماد بن زید نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب صفة الجنة والنار برقم (6558) انظر ((التحفة)) برقم (2514)»
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ ، يَحْتَرِقُونَ فِيهَا ، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ ، حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .
قیس بن سلیم عنبری نے کہا: یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے، وہ اپنے چہروں کے علاوہ (پورے کے پورے) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3140)»
حدیث نمبر: 191
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ : " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ ! وَاللَّهُ يَقُولُ : إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 ، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20 ، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ ، قَالَ : ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ ، قَالَ : غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا ، قَالَ : يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ ، قَالَ : فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا ، قُلْنَا : وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعْنَا ، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ .
یزید فقیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہ خارجیوں کی آراء میں سے ایک رائے میرے دل میں گھر کر گئی، ہم ایک بڑی تعداد کی جماعت کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے، کہ پھر ہم لوگوں میں اس رائے کی تبلیغ کے لیے نکلیں گے۔ تو ہم مدینہ سے گزرے، وہاں دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس بیٹھ کر لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہے ہیں، انہوں نے اچانک دوزخیوں کا تذکرہ کیا، تو میں نے ان سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی! یہ آپ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو یہ ہے: «إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ» (آل عمران: 192) ”بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا تو اس کو رسوا کر دیا۔“ اور فرمایا: «كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا» (السجدہ: 20) ”وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔“ تو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو قرآن پڑھتا ہے؟“ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کہا: ”کیا تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں سنا ہے؟ یعنی وہ مقام، جو آپ کو قیامت کے دن دیا جائے گا۔“ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام، وہ مقام محمود ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہنم سے نکالے گا، جن کو نکالنا چاہے گا۔“ پھر انہوں نے پل رکھنے، اور اس پر لوگوں کے گزرنے کو بیان کیا، مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا۔ ہاں اتنی بات ہے، انہوں نے کہا: ”کچھ لوگ جہنم میں رہنے کے بعد اس سے نکلیں گے۔“ ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا: ”تو وہ نکلیں گے، گویا کہ تلوں کی لکڑیاں ہیں، (یعنی جلے ہوئے بھنے ہوئے) تو وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے، اور اس میں نہائیں گے، پھر اس سے کاغذوں کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔“ پھر ہم واپس آئے، اور ایک دوسرے کو کہا: تم پر افسوس! کیا تم سمجھتے ہو کہ بوڑھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے؟ اور ہم (اس رائے) سے لوٹ آئے، تو اللہ کی قسم! ہم میں سے صرف ایک آدمی الگ رہا، یا جیسا کہ ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 191
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3140)»
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ ، فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلَا تُعِدْنِي فِيهَا ، فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ سے چار آدمی نکالے جائیں گے، اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، تو ان میں سے ایک مڑ کر دیکھے گا، اور کہے گا: اے میرے رب! جب تو نے مجھے اس سے نکال ہی دیا ہے، تو اب اس میں نہ لوٹا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نجات دے دے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 192
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (347 و 1073)»
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْن الْجَحْدَرِيُّ ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ ، وقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، فَيَقُولُونَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ، قَالَ : فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السّلامُ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا ، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيَأْتُونِي ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي ، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ ، وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، قُلْ : تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ : تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ : فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ قَتَادَةُ : أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا، اور وہ اس کے لیے فکر مند ہوں گے۔“ (کہ اس پریشانی سے کیسے نجات پائی جائے) ابن عبید رحمہ اللہ نے کہا: ”اس غرض کے لیے (فکر) ان کے دل میں ڈالا جائے گا، تو وہ کہیں گے: اے کاش! ہم اپنے رب کے حضور کسی سفارشی کو لائیں؛ تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے آرام دلوائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم علیہ السلام ہیں! تمام مخلوق کے باپ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور تیرے اندر اپنی روح ڈالی (یعنی اپنی پیدا کردہ روح)، اور فرشتوں کو حکم دیا، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں، کہ وہ ہمیں اس جگہ سے (اس جگہ کی تکلیف سے) آرام پہنچائے۔ تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں (میں اس کے اہل نہیں)، تو وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا (یا اس کو بیان کر کے) اس کی بناء پر اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! وہ پہلا رسول ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، اور وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا، اس کو یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور (کہیں گے) تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی تھی، اور اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! جن کو اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے کا شرف بخشا، اور انہیں تورات عنایت کی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، تو وہ بھی کہیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، اور اپنی خطا جو ان سے ہوئی تھی یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم عیسیٰ روح اللہ اور اس کے کلمہ کے پاس جاؤ! تو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ بھی یہی کہیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! جو ایسا بندہ ہے، جس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ میرے پاس آئیں گے، تو میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، (تاکہ میں سفارش کر سکوں) تو مجھے اجازت دی جائے گی، تو جب میں اسے (اللہ تعالیٰ کو) دیکھوں گا، سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو جب تک وہ چاہے گا مجھے اس حالت میں چھوڑے گا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے! دیے جاؤ گے، سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھا لوں گا، اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا، جو میرا رب (اس وقت) سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں (اسی حد کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر واپس آکر میں سجدہ ریز ہوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، اس حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے اے محمد! کہیے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگیے! دیے جاؤ گے۔ سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا، جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا، تو وہ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی دفعہ فرمایا: ”تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کے لیے دوزخ میں ہمیشگی ثابت ہے۔“ ابن عبید رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جس کا ہمیشہ رہنا ضروری ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6565) انظر ((التحفة)) برقم (4136)»
حدیث نمبر: 193
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ومُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ ، أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ ، أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ .
دوسری سند سے جس میں (ابوعوانہ کے بجائے) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس (کی ہولناکیوں سے بچنے) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی۔“ .... (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا: ”پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا (یا چوتھی بار لوٹوں گا) اور کہوں گا: ’اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن (کے فیصلے) نے روک رکھا ہے اور کوئی باقی نہیں بچا۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في التفسير، باب: قول الله ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ برقم (4476) مطولا - وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (1171)»
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .
معاذ بن ہشام نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس (دن کی پریشانی سے بچنے) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی۔“ .... یہ حدیث بھی ان دونوں (ابوعوانہ اور سعید) کی حدیث کی طرح ہے، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا: ”تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن (کے فیصلے) نے روک لیا ہے، یعنی جس کے لیے (آگ میں) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير ، باب: قول الله ﴿ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ﴾ مطولا وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ مطولا برقم (7410) وفى، باب: ما جاء في قول الله تعالى ﴿ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ برقم (7450) و من، باب: ما جاء في قوله عز وجل ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (7516) انظر ((التحفة)) برقم (1357)»
حدیث نمبر: 193
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ منَ النَّارِ ، مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ ، مَنْ قَال : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ ، مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً " ، زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ ، جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ، ذُرَةً ، قَالَ يَزِيدُ : صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَام .
محمد بن منہال الضریر نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ....، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر خیر ہوئی، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی۔“ (گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے۔) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا: میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نے کہا: ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، البتہ شعبہ نے ”ایک ذرے“ کے بجائے ”مکئی کا دانہ“ کہا۔ یزید نے کہا: اس لفظ میں ابوبسطام (شعبہ) سے تصحیف (حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی) ہو گئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((الايمان)) باب: زيادة الايمان ونقصانه برقم (44) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾ برقم (7410) والترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين وما ذكر من يخرج من الناس من اهل التوحيد برقم (2593) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (11356 و 1194 و 1272)»
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى ، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ ، فَيُؤْتَى مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ ، فَيُؤتَى عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُوتَى ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَيُؤْذَنُ لِي ، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : رَبِّ أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ، أَدْنَى ، أَدْنَى ، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ " ، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ ، قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هِيَهِ ، قُلْنَا : مَا زَادَنَا ؟ قَالَ : قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا ، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ ، وَقَالَ : خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا ، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ ، أَوَ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ ، وَلَكِنْ ، وَعِزَّتِي ، وَكِبْرِيَائِي ، وَعَظَمَتِي ، وَجِبْرِيَائِي ، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ ، قَالَ : قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ .
معبدبن ہلال عنزی نے کہا: ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت (البنانی) کو اپنا سفارشی بنایا (ان کے ذریعے سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔) ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لیے (اندر آنے کی) اجازت لی۔ ہم اندر ان کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا۔ ثابت نے ان سے کہا: ’اے ابوحمزہ! بصرہ کے باشندوں میں سے آپ کے (یہ) بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کی حدیث سنائیں۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: ’اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدان حشر کے مصائب اور جاں گسل انتظار سے نجات پائیں۔)‘ وہ کہیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کا دامن تھام لو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل (خالص دوست) ہیں۔‘ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جاؤ، وہ کلیم اللہ ہیں (جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا)۔‘ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضری ہو گی۔ وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ جاؤ کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آمد ہو گی، وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جاؤ۔‘ تو (ان کی) آمد میرے پاس ہو گی۔ میں جواب دوں گا: ’اس (کام) کے لیے میں ہوں۔‘ میں چل پڑوں گا اور اپنے رب کے سامنے حاضری کی اجازت چاہوں گا، مجھے اجازت عطا کی جائے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا اور تعریف کی ایسی باتوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا جس پر میں اب قادر نہیں ہوں، اللہ تعالیٰ ہی یہ (حمد) میرے دل میں ڈالے گا، پھر میں اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لیں۔‘ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور لوٹ آؤں گا اور حمد کے انہی اسلوبوں سے اس کی تعریف بیان کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ مجھے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر اپنے رب کے حضور لوٹ آؤں گا اور اس جیسی تعریف سے اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، اس سے (بھی) کم، اس سے (اور بھی) کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا۔“ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی۔ (معبدبن ہلال عنزی نے) کہا: چنانچہ ہم ان کے ہاں سے نکل آئے، جب ہم چٹیل میدان کے بالائی حصے پر پہنچے تو ہم نے کہا: (کیا ہی اچھا ہو) اگر ہم حسن بصری کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کیا۔ ہم نے کہا: ’جناب ابوسعید! ہم آپ کے بھائی ابوحمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آرہے ہیں۔ ہم نے کبھی اس جیسی حدیث نہیں سنی جو انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہمیں سنائی۔‘ حسن بصری نے کہا: ’لائیں، سنائیں۔‘ ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: ’آگے سنائیں۔‘ ہم نے کہا: ’انہوں نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں سنایا۔‘ انہوں (حسن بصری) نے کہا: ’ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے سنائی تھی، اس وقت وہ پوری قوتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے، معلوم نہیں، شیخ بھول گئے یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم (اس میں بیان کی ہوئی بات ہی پر) بھروسا نہ کر لو۔‘ ہم نے عرض کی: ’آپ ہمیں سنا دیں۔‘ تو وہ ہنس پڑے اور کہا: «إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا» ’’انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے،‘‘ میں نے تمہارے سامنے اس بات کا تذکرہ اس کے سوا (اور کسی وجہ سے) نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ میں تمہیں یہ حدیث سنانا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں چوتھی بار اپنے رب کی طرف لوٹوں گا، پھر انہی تعریفوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں (بھی) اجازت دیجیے جنہوں نے (صرف) ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘ اللہ فرمائے گا: ’یہ آپ کے لیے نہیں لیکن میری عزت کی قسم، میری کبریائی، میری عظمت اور میری بڑائی کی قسم! میں ان کو (بھی) جہنم سے نکال لوں گا جنہوں نے ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘“ معبدکا بیان ہے: میں حسن بصری کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: بیس سال پہلے، اور اس وقت ان کی صلاحتیں بھرپور تھیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء، وغيرهم برقم (7510) انظر ((التحفة)) برقم (523 و 1599)»
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ ، إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ؟ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي ، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ ، أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ؟ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : ائْتُوا آدَمَ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ آدَمُ : إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ ، فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ ، دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنِّي قَتَلْتُ : نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْتُونِّي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ ، وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا ، لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى " ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ کو دستی کا گوشت پیش کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی مرغوب تھی۔ آپ نے اس سے دانتوں سے ایک دفعہ گوشت کاٹا اور فرمایا: ”قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہوگا؟ اللہ عز و جل قیامت کے دن تمام پہلوں اور پچھلوں کو ایک کھلے ہموار میدان میں جمع کرے گا۔ منادی کی آواز سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑے گی۔ آفتاب قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور مصیبت پہنچے گی جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گی۔ جس کو وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو، تم کس حالت میں ہو؟ تمہیں کس قدر پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ کیا تم کسی کو تلاش نہیں کرو گے؟ جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ تو لوگ ایک دوسرے کو کہیں گے آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے آدم! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست مبارک سے بنایا ہے، اور آپ میں اپنی خصوصی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا، تو وہ آپ کے حضور جھک گئے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں، ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آپ دیکھ نہیں رہے ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو آدم علیہ السلام جواب دیں گے: یقیناً میرا رب آج اس قدر ناراض ہے، کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر ناراض نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے مجھے درخت سے روکا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی۔ آج مجھے تو اپنی ہی فکر ہے، تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں کیا! آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہم کس قدر پریشانی میں ہیں؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو وہ انہیں جواب دیں گے: آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اتنا کبھی اس سے پہلے غصہ میں نہیں آیا، نہ ہی اس کے بعد کبھی اس قدر غصے میں آئے گا۔ صورت حال یہ ہے، کہ مجھے ایک دعا کرنے کا حق حاصل تھا وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی، آج تو مجھے اپنی فکر دامن گیر ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض گزار ہوں گے: آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت دیکھ نہیں رہے ہیں؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ تو ابراہیم علیہ السلام انہیں کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ اس قدر اس سے پہلے غضبناک نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، اور اپنے توریوں کا تذکرہ کریں گے، مجھے تو اپنی ہی فکر دامن گیر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغامات اور ہم کلامی کی لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔ ہماری خاطر اللہ کے حضور سفارش کیجیے۔ کیا آپ ہماری بے بسی کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں، آپ اس کا ملاحظہ نہیں کر رہے؟ تو موسیٰ علیہ السلام ان کو کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے اس قدر غضبناک نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا، اور میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں، جس کے قتل کی مجھے اجازت نہ تھی۔ مجھے تو اپنی ہی فکر لاحق ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ! لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے میں گفتگو کی، آپ اللہ کا کلمہ ہیں، جس کا اس نے مریم علیہ السلام کی طرف القاء کیا، اور اس کی روح ہیں، اس لیے اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے، ہم کس قدر مصائب میں مبتلا ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں نہیں ہوا، نہ اس کے بعد اس قدر غصے میں ہوگا۔ (وہ) اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، مجھے اپنی ہی فکر ہے، میرے سوا کسی کے پاس جاؤ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو لوگ میرے پاس آکر کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہم کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں؟ تو میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور بہترین ثناء کا اظہار فرمائے گا، اور میرے دل میں ڈالے گا، مجھ سے پہلے کسی کو ان سے آگاہ نہیں کیا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا! مانگ! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! تیری سفارش قبول ہوگی۔ تو میں سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! (یعنی میری امت کو بخش دے) تو کہا جائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا حساب و کتاب نہیں، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت کے دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 194
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((احاديث الانبياء)) باب يزفون النسلان فى المشي ببرعة (3361) وفي، باب: قول الله عز وجل: ﴿ لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ ﴾ برقم (3340) وفي التفسير، باب: ﴿ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا ﴾ برقم (4712) والترمذى في ((جامعه)) في الزهد، باب: ما جاء في الشافعة وقال: هذا حديث حسن صحيح، برقم (2434) وفي الاطعمة، باب: ما جاء فى اى اللحم كان احب الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ( 1837) باختصار - وابن ماجه في ((سننه)) في الاطعمة، باب: اطايب اللحم - مختصراً برقم (3307) انظر ((التحفة)) برقم (14927)»
حدیث نمبر: 194
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ ، وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ ، فَنَهَسَ نَهْسَةً ، فَقَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ ، قَالَ : أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَهْ ؟ قَالُوا : كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : وَذَكَرَ قَوْلَهُ : فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76 ، وقَوْله لِآلِهَتِهِمْ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وقَوْله : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ، أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی کو اٹھا لیا اور آپ کو بکری کے گوشت سے سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک دفعہ دانتوں سے نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔“ پھر دوبارہ گوشت نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ نے دیکھا، آپ کے ساتھی اس کا سبب نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: ”تم کیوں نہیں پوچھتے یہ کیوں ہوگا؟“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کا سبب کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“ عمارہ رحمہ اللہ نے بھی حدیث مذکورہ بالا سند سے ابو حیان رحمہ اللہ نے ابو زرعہ رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں یہ اضافہ کیا: ”کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: میں نے کواکب (ستاروں) کے بارے میں کہا: «هَٰذَا رَبِّي» (الأنعام: 76) ”یہ میرا رب ہے“ اور ان کے معبودوں کے بارے میں کہا: ”بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے“ اور کہا: ”میں بیمار ہوں۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس کی قسم! جنت کے دروازوں کے دونوں پٹوں کا فاصلہ چوکھٹ تک اتنا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا ہجر اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ۔“ مجھے یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کس شہر کا نام لیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 194
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14914)»
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا أَبَانَا ، اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ ، وَرَاءَ ، اعْمِدُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا ، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى ، كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ ، فَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ ، وَتُرْسَلُ الأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ ، قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ يَقُولُ : رَبِّ سَلِّمْ ، سَلِّمْ ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ ، فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا ، قَالَ : وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ " ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا .
محمد بن فضیل نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز ابومالک نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: ’اے والد بزرگ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا جنت سے تمہیں نکالنے کا سبب تمہارے باپ آدم کی خطا کے علاوہ کوئی اور چیز بنی تھی؟ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ میرے بیٹے، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ آپ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں، میں خلیل تھا (مگر اولین شفاعت کے اس منصب سے) پیچھے پیچھے۔ تم موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو، جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’میں اس کام (کو کرنے) والا نہیں ہوں۔‘ تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ آپ اللہ کے سامنے قیام فرمائیں گے اور آپ کو (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی۔ امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا۔“ میں نے پوچھا: ’میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کے گزرنے کی طرح کیا ہے؟‘ آپ نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا، کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر پرندہ گزرنے اور آدمی کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا: ’اے میرے رب! بچا، بچا (میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے۔)‘ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے یہاں تک کہ ایسا آدمی آئے گا جس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہو گی۔“ آپ نے فرمایا: ”(پل) صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہوں گے، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال (کی مسافت) کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 195
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3311 و 13400)»