حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ ، قَدْ رَجَّلَهَا ، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ ، قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
مالک (بن انس) نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک رات اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سے سب سے خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کی لمبی لمبی لٹیں تھیں جو ان لٹوں میں سے سب سے خوبصورت تھیں جنہیں تم دیکھتے ہو، ان کو کنگھی کی ہوئی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کا (یا دو آدمیوں کے کندھوں کا) سہارا لیا ہوا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ کہا گیا: ’یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں۔‘ پھر اچانک میں نے ایک آدمی دیکھا، الجھے ہوئے گھنگریالے بالوں والا، دائیں آنکھ کانی تھی، جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ تو کہا گیا: ’یہ مسیح دجال (جھوٹا یا مصنوعی مسیح) ہے۔‘“
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ ، تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ ، رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا ، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار رہنا! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رات اپنے آپ کو نیند میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں نے ایک گندم گوں شخص دیکھا، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی تھیں، بال کنگھی کیے ہوئے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’یہ مسیح ابن مریم ہیں۔‘ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ (عبدالعزیٰ) ابن قطن کے مشابہ تھا، اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’یہ مسیح دجال ہے۔‘“
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ ، فَسَأَلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا (یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے)، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم‘ (راوی کو یاد نہ تھا کہ دونوں میں سے کون سا لفظ کہا تھا) اور ان کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا: سرخ رنگ کا، سر کے بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’مسیح دجال ہے۔‘“
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ ، فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش نے مجھے جھٹلایا، میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے اچھی طرح نمایاں کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر اس کی نشانیاں ان کو بتانی شروع کر دیں۔“
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً ، أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً ، قُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ ، جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ ، أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " .
سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں سو رہا تھا کہ اس اثناء میں، میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ اچانک میری ایک آدمی پر نظر پڑی، جس کے بال سیدھے، رنگ گندمی ہے، دو آدمیوں کے درمیان ہے، اس کے سر سے پانی بہہ رہا ہے یا اس کے سر سے پانی گر رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابن مریم علیہ السلام ہے۔ پھر میں دیکھنے لگا، تو میری نظر ایک سرخ آدمی پر پڑی جس کا جسم بھاری تھا، سر کے بال گھنگریالے تھے، آنکھ کانی تھی، گویا کہ اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: دجال ہے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہ ابن قطن ہے۔“
حدیث نمبر: 172
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا ، فَكُرِبْتُ كُرْبَةً مَا كُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ ، قَالَ : فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ ، إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَإِذَا مُوسَى قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَإِذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ " ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنً الصَّلَاةِ ، قَالَ قَائِلٌ : يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِكٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ ، فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں دیکھا، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کے بارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہوا کہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا،“ آپ نے فرمایا: ”اس پر اللہ تعالیٰ نے اس (بیت المقدس) کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا، میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے، میں انہیں بتا دیتا۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں۔ اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور (وہاں) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں،“ آپ نے اپنی ذات مراد لی، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ایک کہنے والے نے کہا: ”اے محمد! یہ مالک ہیں، جہنم کے داروغے، انہیں سلام کہیے:“ میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھے سلام کیا۔“