کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا، اور دلوں پر فتنوں کے آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ ، قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ ، حَدَّثَنَا أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ، ثُمّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الأَمَانَةِ ، قَالَ : " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ ، فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ ، فَنَفِطَ ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ، ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا ، يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ ، حَتَّى يُقَالَ : إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا ، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا أَجْلَدَهُ ، مَا أَظْرَفَهُ ، مَا أَعْقَلَهُ ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ ، وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ ، وَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا " .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں ایک تو میں دیکھ چکا ہوں (پوری ہو چکی ہے) اور دوسری کا میں منتظر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر قرآن اترا تو انھوں نے قرآن جانا اور سنت سے جانا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری حدیث) امانت کے اٹھنے کے بارے میں بیان فرمائی، فرمایا: ”ایک آدمی تھوڑی دیر سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان ایک پھیکے رنگ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر وہ کچھ وقت کے لیے سوئے گا تو امانت اس کے دل سے قبض کر لی جائے گی، اور اس کا نشان آبلہ کی طرح رہ جائے گا، جیسا کہ تم انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکا دو تو اس پر آبلہ بن جائے، تو تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو اور اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا دیا۔ ”تو پھر لوگ خرید فروخت کریں گے، تو ان میں سے کوئی ایسا نہیں ملے گا جو امانت ادا کرے یہاں تک کہ لوگ کہیں گے: فلاں خاندان میں ایک امانت دار آدمی ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا وہ کس قدر بیدار مغز، خوش مزاج اور عقل مند ہے۔ اور اس کی تعریف و توصیف کریں گے اور اس کے دل میں رائی کے دانے کے بقدر ایمان نہیں ہو گا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک دور گزر چکا ہے، کہ مجھے کسی کے ساتھ لین دین کرنے میں کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میرے ساتھ خیانت کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا حاکم اس کو مجھے نقصان پہنچانے سے روکتا، لیکن آج میں تمھارے ساتھ فلاں فلاں کے سوا کسی سے معاملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 143
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں (نمیر رحمہ اللہ، وکیع رحمہ اللہ اور عیسیٰ رحمہ اللہ سے)۔
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ ؟ فَقَالَ قَوْمٌ : نَحْنُ سَمِعْنَاهُ ، فَقَالَ : لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَجَارِهِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، قَالَ : تِلْكَ تُكَفِّرُهَا ، الصَّلَاةُ ، وَالصِّيَامُ ، وَالصَّدَقَةُ ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتَنَ ، الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ ؟ قَالَ حُذَيْفَةُ : فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ ، فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا ، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا ، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا ، لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا ، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ " ، قَالَ حُذَيْفَةُ وَحَدَّثْتُهُ : أَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا ، بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ ، قَالَ عُمَرُ : أَكَسْرًا ، لَا أَبَا لَكَ ، فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ لَعَلَّهُ كَانَ يُعَادُ ؟ قُلْتُ : لَا ، بَلْ يُكْسَرُ ، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ ، قَالَ أَبُو خَالِدٍ : فَقُلْتُ لِسَعْدٍ : يَا أَبَا مَالِكٍ ، مَا أَسْوَدُ مُرْبَادًّا ؟ قَالَ : شِدَّةُ الْبَيَاضِ فِي سَوَادٍ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا الْكُوزُ مُجَخِّيًا ؟ قَالَ : مَنْكُوسًا .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے تو انھوں (عمر رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کا ذکر سنا ہے؟ تو کچھ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے سنا ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شاید تم وہ آزمائش مراد لے رہے ہو جو آدمی کو اپنے اہل، مال اور پڑوسی کے سلسلہ میں پیش آتی ہے۔ انھوں نے کہا ہاں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس فتنہ (آزمائش و ابتلا) کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں۔ لیکن تم میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فتنہ کا ذکر سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح موجزن ہو گا؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس پر سب لوگ خاموش ہو گئے، تو میں نے کہا: میں نے (سنا ہے)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا باپ اللہ کا کرشمہ ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنے لوگوں کے دلوں پر چٹائی کے تنکوں کی طرح ایک ایک کر کے پیش کیے جائیں گے، تو جس دل میں وہ پیوستہ ہو گئے اس میں سیاہ نقطہ پڑ جائے گا، اور جس دل نے ان کو قبول نہ کیا، اس میں سفید نقطہ پڑ جائے گا یہاں تک کہ دل دو قسم کے ہو جائیں گے۔ چٹان کی طرح سفید، تو جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ایسے دلوں کو کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ دوسرے اوندھے لوٹے کی طرح خاکی سیاہ جو نہ کسی معروف کو پہچانیں گے اور نہ کسی منکر کا انکار کریں گے، مگر جس چیز سے ان کی خواہش پوری ہو۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا: کہ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان بند دروازہ ہے جو جلد ٹوٹ جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا توڑ دیا جائے گا؟ تیرا باپ نہ ہو! اگر وہ کھول دیا جائے تو بند کیا جا سکتا تھا۔ میں نے کہا کھولا نہیں، توڑا جائے گا۔ اور میں نے کہا: وہ دروازہ ایک آدمی ہے جو قتل کیا جائے گا یا مرے گا۔ صاف بات ہے پہیلی یا معمہ نہیں ہے۔ ابو خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعد رحمہ اللہ سے پوچھا اے ابو مالک! «أَسْوَدُ مُرْبَادًّا» سے کیا مراد ہے؟ اس نے کہا: سیاہی میں بہت سفیدی۔ میں نے پوچھا «الْكُوزُ مُجَخِّيًا» سے کیا مراد ہے؟ اس نے کہا الٹا ہوا (پیالہ)۔
حدیث نمبر: 144
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ ، لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ : مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا .
مروان فزاری نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حضرت ربعی سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: جب حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس سے آئے تو بیٹھ کر ہمیں باتیں سنانے لگے اور کہا: کل جب میں امیر المومنین کی مجلس میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھا: تم میں سے کس نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد رکھا ہوا ہے؟ ...... پھر (مروان فزاری نے) ابوخالد کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی لیکن «مرباداً مجخياً» سے متعلق ابومالک کی تفسیر ذکر نہیں کی۔
حدیث نمبر: 144
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : مَنْ يُحَدِّثُنَا ؟ أَوَ قَالَ : أَيُّكُمْ يُحَدِّثُنَا ، وَفِيهِمْ حُذَيْفَةُ ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ ، وَقَالَ : يَعْنِي أَنَّهُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نعیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں کون ہمیں بتائے گا (اور ان میں حذیفہ رضی اللہ عنہ موجود تھے) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کے بارے میں فرمایا تھا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آگے ابومالک کی وہی روایت بیان کی ہے جو انہوں نے ربعی سے بیان کی اور اس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی بیان کیا کہ میں نے انہیں حدیث سنائی تھی، مغالطے میں ڈالنے والی باتیں نہیں، یعنی وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے تھی۔