کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والے حاکم کے لیے جہنم کی وعید۔
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، قَالَ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ ، رَعِيَّةً يَمُوتُ ، يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کی مرض الموت میں عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تمھیں ایک ایسی حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ اگر میں یہ سمجھتا کہ میں ابھی کچھ عرصہ اور زندہ رہوں گا تو تمھیں یہ حدیث نہ سناتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کسی کا نگران اور محافظ بناتا ہے اور وہ اپنی رعایا کے (حقوق میں) خیانت کرتا ہوا مرتا ہے، تو اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، »
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ ؟ قَالَ : مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لَأُحَدِّثَكَ .
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد (ان کی بیمار پرسی کے لیے) ان کے پاس آیا اور ان کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگے: میں تمھیں ایسی حدیث سنانے لگا ہوں، جو میں نے پہلے تمھیں نہیں سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا محافظ بناتا ہے، اور وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس (رعیت) کے ساتھ دھوکا کرنے والا ہوتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت ممنوع قرار دے دیتا ہے۔“ عبید اللہ نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں سنائی؟ تو انھوں نے جواب دیا: میں نے تجھے نہیں سنائی یا میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ (کیونکہ زندگی میں بیان کرنے کی صورت میں خطرہ تھا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (361)»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : كُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَجَاءَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا .
حسن رحمہ اللہ نے بتایا: ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے ہوئے تھے کہ عبید اللہ بن زیاد بھی آگیا تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمھیں ایسی حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، پھر اوپر کے مفہوم والی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (361)»
حدیث نمبر: 142
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ ، لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " .
ابوملیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں موت (کی راہ) میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’کوئی امیر جو مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، پھر وہ ان (کی بہبود) کے لیے کوشش اور خیر خواہی نہیں کرتا، وہ ان کے ہمراہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، »