کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ ، فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا " .
وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے آپ کو لوہے (کے ہتھیار) سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہے گا، اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں اسے گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خودکشی کی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرتا رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الطب، باب: ما جاء فيمن قتل نفسه بسم او غيره :وقال هذا حديث حسن صحيح - بعد حديث (2044) وابن ماجه في ((سننه)) في الطب، باب: النهي عن الدواء الخبيث مختصرا برقم (3460) انظر ((التحفة)) برقم (12466)»
حدیث نمبر: 109
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَان .
جریر، عبثر بن قاسم اور شعبہ سے بھی، سابقہ سند کے ساتھ، مذکورہ بالا روایت بیان کی گئی ہے۔ شعبہ کی روایت میں ہے: سلیمان (اعمش) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ذکوان سے سنا، (انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اپنے سماع کی وضاحت کی ہے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الطب، باب: شرب السم والدواء وبما يخاف منه والخبيث برقم (5442) والترمذي في ((جامعه)) في الطب، باب: ما جاء فيمن قتل نفسه بسم او غيره برقم (2044) والنسائي في ((المجتبى)) 67/4 في الجنائز، باب: ترك الصلاة على من قتل نفسه - انظر ((التحفة)) برقم (12394)»
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْءٍ لَا يَمْلِكُهُ " .
معاویہ بن سلام دمشقی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہ ابوقلابہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے (حدیبیہ کے مقام پر) درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہونے کی پختہ قسم کھائی اور (جس بات پر اس نے قسم کھائی اس میں) وہ جھوٹا تھا تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا (اس کا عمل ویسا ہی ہے۔) اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا قیامت کے دن اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔ اور کسی شخص پر اس چیز کی نذر پوری کرنا لازم نہیں جس کا وہ مالک نہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب: ما جاء في قاتل النفس برقم (1297) وفي الادب، باب: ما ينهى من السباب واللعن برقم (5700) و باب: من اكفر اخاه بغیر تاويل فهو كما قال برقم (5754) وفى الايمان والنذور، باب: من حلف بملة غير ملة الاسلام برقم 6476 و ابوداؤد اور في سنة في الايمان والنذور، باب: ماجاء في الحلف بالبراة وبملة غير الاسلام برقم 3257 - والترمذى في ((جامعه)) في الايمان والنذور، باب: ما جاء لا نذر فيما لا يملك ابن آدم وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1527) وباب: ما جاء في كراهية الحلف بغير ملة الاسلام، وقال هذا حديث حسن صحيح برقم (1543) والنسائي في ((المجتبى)) 6/6-7 في الايمان والنذور، باب: الحلف بملة سوى الاسلام وفي 19/7-20 ـ وفي باب: النذر فيما لا يملك - وابن ماجه في ((سننه)) في الكفارات، باب: من حلف بملة غير الاسلام برقم (2098) انظر ((التحفة)) برقم (2062)»
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا ، لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، فَاجِرَةٍ " .
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے، اس کے بارے میں (مانی ہوئی) نذر اس کے ذمے نہیں ہے۔ مومن پر لعنت بھیجنا (گناہ کے اعتبار سے) اس کے قتل کے مترادف ہے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا، قیامت کے دن اسی چیز سے اس کو عذاب دیا جائے گا، اور جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس (کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا اور جس نے ایسی قسم جو فیصلے کے لیے ناگزیر ہو، جھوٹی کھائی (اس کا بھی یہی حال ہو گا۔)“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المغازى، باب: غزوة الحديبيه برقم (3938) مختصرا في غير ذكر الحديث وفي التفسير، باب: ﴿إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ برقم (4562) مختصراً بدون ذكر الحديث وابوداؤد في ((سننه)) في الايمان والنذور، باب: ما جاء في الحلف بالبراة وبملة غير الاسلام برقم (3257) انظر ((التحفة)) برقم (2063)»
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ كلهم ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا ، فَهْوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " ، هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ ، وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهْوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
شعبہ نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز سفیان ثوری نے بھی خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق (اسی مذہب سے) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔“ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی (اس روایت میں ”جان بوجھ کر“ کے الفاظ نہیں) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 110
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (298)»
حدیث نمبر: 111
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِسْلَامِ : هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّار ، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا ، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا : إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا ، وَقَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَى النَّارِ ، فَكَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ ، إِذْ قِيلَ إِنَّهُ : لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ حنین میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں، جسے مسلمان کہا جاتا تھا، فرمایا: ”یہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ جب ہم لڑائی میں گئے تو اس آدمی نے بڑی زور دار جنگ لڑی جس کی وجہ سے اسے زخم لگ گئے اس پر آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی فرمایا تھا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے“ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مر چکا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی طرف (جائے گا۔)“ بعض مسلمان آپ کے اس فرمان کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگے، (کہ ایسا جانثار کیسے دوزخی ہو سکتا ہے۔) لوگ اسی حالت میں تھے کہ بتایا گیا: وہ مرا نہیں ہے لیکن اسے شدید زخم لگے ہیں۔ جب رات پڑی تو وہ (اپنے) زخموں پر صبر نہ کر سکا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: ”یقیناً اس جان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا جو اسلام پر ہے اور بلاشبہ اللہ برے لوگوں سے بھی اس دین کی تائید کراتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: ان الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر برقم (2897) وفي القدر، باب: العمل بالخواتيم برقم (6232) انظر ((التحفة)) برقم (13277)»
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا ، فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ ، وَمَالَ الآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ ، وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً ، إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ ، فَقَالُوا : مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ ، كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا ، قَالَ : فَخَرَجَ مَعَهُ ، كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ ، قَالَ : فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَي سَيْفِهِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنَ أَهْلِ النَّار ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : أَنَا لَكُمْ بِهِ ، فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ ، حَتَّى جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ ، وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لشکر گاہ کی طرف پلٹے اور فریق ثانی اپنی لشکر گاہ کی طرف مڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں میں سے ایک آدمی تھا جو دشمنوں (کی صفوں) سے الگ رہ جانے والوں کو نہ چھوڑتا، ان کا تعاقب کرتا اور انہیں اپنی تلوار کا نشانہ بنا دیتا، لوگوں نے کہا: آج ہم میں سے فلاں نے جو کردکھایا کسی اور نے نہیں کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص اہل جہنم میں سے ہے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا: میں مستقل طور پر اس کے ساتھ رہوں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آدمی اس کے ہمراہ نکلا۔ جہاں وہ ٹھہرتا وہیں یہ ٹھہر جاتا اور جب وہ اپنی رفتار تیز کرتا تو اس کے ساتھ یہ بھی تیز چل پڑتا۔ (آخر کار) وہ آدمی شدید زخمی ہو گیا، اس نے جلد مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ (تلوار کا دستہ) زمین پر رکھا اور اس کی دھار اپنی چھاتی کے درمیان رکھی، پھر اپنی تلوار سے اپنا پورا وزن ڈال کر خودکشی کر لی۔ وہ (پیچھا کرنے والا) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ تو اس نے کہا: وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی بتایا تھا کہ وہ دوزخی ہے اور لوگوں نے اسے غیر معمولی بات سمجھا تھا۔ اس پر میں نے (لوگوں سے) کہا: میں تمہارے لیے اس کا پتہ لگاؤں گا۔ میں اس کے پیچھے نکلا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس نے جلدی مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ (دستہ) زمین پر اور اس کی دھار چھاتی کے درمیان رکھی، پھر اس پر اپنا پورا بوجھ ڈال دیا اور خود کو مار ڈالا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی جنتیوں کے سے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے حالانکہ (انجام کار) وہ جنتی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 112
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في (صحيحه)) في المغازی، باب: غزوة برقم (3966) وفي الجهاد، باب: لا يقول فلان شهيد برقم (2742) والمولف ((مسلم)) في القدر، باب: كيفية الخلق الآدمي في بطن امه، وكتابة رزقه واجله وعمله، وشقاوته وسعادته مختصراً برقم (6683) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (4780 و 4287)»
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ ، فَلَمَّا آذَتْهُ ، انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا ، فَلَمْ يَرْقإِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : " رَبُّكُمْ ، قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .
شیبان نے بیان کیا کہ میں نے حسن (بصری) کو کہتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا، اسے پھوڑا نکلا، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اس پھوڑے کو چیر دیا، خون بند نہ ہوا، حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“ (کیونکہ اس نے خودکشی کے لیے ایسا کیا تھا۔) پھر حسن نے مسجد کی طرف سے اپنا ہاتھ اونچا کیا اور کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی مسجد میں سنائی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الجنائز، باب: ما جاء في قاتل النفس برقم (1298) وفي الانبياء، باب: ما ذكر عن بني اسرائيل برقم (3726) انظر ((التحفة)) برقم (3254)»
حدیث نمبر: 113
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبيِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، فَمَا نَسِينَا وَمَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ جُنْدَبٌ ، كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خُرَاجٌ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ ہمیں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں حدیث سنائی، نہ ہم بھولے ہیں اور نہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ جندب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی طرف سے بات منسوب کی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک آدمی کے پھوڑا نکلا۔“ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (303)»