کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: ہمسایہ اور مہمان کی خاطرداری کرنے کی ترغیب، اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيى ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے، اور جو آدمی اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو انسان اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا پھر چپ رہے۔“
حدیث نمبر: 47
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔“
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّه سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔“