کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: ایمان کی شاخوں کی تعداد، اور افضل اور ادنیٰ ایمان کا بیان، اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔“
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ ، بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
سہیل نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل جز «لا إله إلا الله» کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت (دینے والی چیز) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے۔“
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فَقَالَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ " .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”(حیا سے مت روکو) حیا ایمان میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ .
ہمیں عبد بن حمید رحمہ اللہ نے عبدالرزاق رحمہ اللہ سے معمر رحمہ اللہ کی زہری رحمہ اللہ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ روایت بیان کی جس میں یہ ہے کہ آپ ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا۔
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ " ، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ ، أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا ، وَمِنْهُ سَكِينَةً ، فَقَالَ عِمْرَانُ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء خیرو بھلائی ہی کا باعث ہے۔“ تو بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس میں بعض وقار سے اور بعض سکون سے، تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم (اس کے مقابلہ میں) اپنی کتابوں کی باتیں سناتے ہو۔
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنَّا ، وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَوْمَئِذٍ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " ، قَالَ : أَوَ قَالَ : " الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ " ، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوِ الْحِكْمَةِ ، أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ ، وَمِنْهُ ضَعْفٌ ، قَالَ : فَغَضِبَ عِمْرَانُ ، حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ ، وَقَالَ : أَلَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُ فِيهِ ، قَالَ : فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَأَعَادَ بُشَيْرٌ ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ ، قَالَ : فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ : إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ .
حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابوقتادہ (تمیم بن نذیر) نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے، اس روز حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا بھلائی ہے پوری کی پوری۔“ (انہوں نے کہا: یہ الفاظ فرمائے): ”حیا پوری کی پوری بھلائی ہے۔“ تو بشیر بن کعب نے کہا: ہمیں کتابوں یا حکمت (کے مجموعوں) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار (کا اظہار) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی (کمزور) ہے۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے: کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو؟ ابوقتادہ نے کہا: عمران نے دوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا: اس پر عمران (سخت) غصے میں آ گئے۔ (ابوقتادہ نے) کہا: تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا: اے ابونجید! (حضرت عمران کی کنیت) یہ ہم میں سے (مسلمان اور حدیث کا طالب علم) ہے۔ اس (کے عقیدے) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ ، يَقُولُ : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
ہمیں اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے نضر رحمہ اللہ سے ابو نعامہ عدوی رحمہ اللہ کی روایت سنائی، اس نے بتایا کہ میں نے حمیر میں ربیع عدوی رحمہ اللہ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سنی یہ روایت بھی حماد بن زید رحمہ اللہ کی روایت کی طرح ہے۔