حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الأَحْمَرَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةٍ ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجِّ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : الْحَجِّ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : لا صِيَامِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجِّ ، هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی تعمیر پانچ چیزوں سے ہے، اللہ تعالیٰ کو یکتا قرار دیا جائے، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج۔“ ایک شخص نے کہا: حج اور رمضان کے روزے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں، رمضان کے روزے اور حج، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا۔
حدیث نمبر: 16
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ ، عَلَى أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ ، وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے سعد بن طارق (ابومالک اشجعی) نے حدیث بیان کی۔ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس پر کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا ہر کسی کی عبادت سے انکار کیا جائے، نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے، بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے پر۔“
حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ (رکنوں) پر رکھی گئی ہے: اس حقیقت کی (دل، زبان اور بعد میں ذکر کیے گئے بنیادی اعمال کے ذریعے سے) گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
حدیث نمبر: 16
وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر : أَلَا تَغْزُو ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ " .
عکرمہ بن خالد، طاؤس کو حدیث سنا رہے تھے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جہاد میں حصہ نہیں لیتے؟ انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: (اس حقیقت کی) گواہی دینے پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، رمضان کے روزے رکھنے اور بیت اللہ کا حج کرنے پر۔“