حدیث نمبر: 9
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تؤمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكِتَابِهِ ، وَلِقَائِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " الإِسْلَامُ ، أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِحْسَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا ، " إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ " ، ثُمَّ تَلَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 ، قَالَ : ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ ، فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا جِبْرِيل ، جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ " .
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے ابوحیان سے، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے سامنے (تشریف فرما) تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتاب، (قیامت کے روز) اس سے ملاقات (اس کے سامنے حاضری) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری (بار زندہ ہو کر) اٹھنے پر (بھی) ایمان لے آؤ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، لکھی (فرض کی) گئی نمازوں کی پابندی کرو، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب (قائم) ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے سوال کیا گیا ہے، وہ اس کے بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ آگاہ نہیں۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں: جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے۔ (قیامت کے وقت کا علم) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام (ماؤں کے پیٹوں) میں کیا ہے، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا، نہ کسی متنفس کو یہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے۔“ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کو میرے پاس واپس لاؤ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے واپس لانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنے لگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا، رسول اللہ نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔“
حدیث نمبر: 9
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ : إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ بَعْلَهَا يَعْنِي السَّرَارِيّ .
امام مسلم رحمہ اللہ نے اوپر والی روایت دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔ صرف ان الفاظ کا فرق ہے «إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ بَعْلَهَا» ”لونڈی اپنے مالک کو جنے گی“ یعنی ربّ کی جگہ بعل کا لفظ ہے۔ یعنی السراری: لونڈیاں۔