صحيح مسلم
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب جَعْلِ الْقَطِيفَةِ فِي الْقَبْرِ: باب: قبر میں چادر ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، جميعا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ " ، قَالَ مُسْلِم : أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ ، وَأَبُو التَّيَّاحِ وَاسْمَهْ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مَاتَا بِسَرَخْسَ .امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔ (ابو التیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔ (ابو التیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2241]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپﷺ کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2241 سے ماخوذ ہے۔