سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُلْقَى تَحْتَ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ باب: قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " جُعِلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ " . قَالَ : وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَيَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ وَاسْمُهُ : عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ وَاسْمُهُ : نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ ، وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَقَدْ رُوِى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُلْقَى تَحْتَ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ شَيْءٌ ، وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں ایک لال چادر رکھی گئی ۔ اور محمد بن بشار نے دوسری جگہ اس سند میں ابوجمرہ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے بھی روایت کی ہے ، ان کا نام عمران بن ابی عطا ہے ، اور ابوجمرہ ضبعی سے بھی روایت کی گئی ہے ، ان کا نام نصر بن عمران ہے ۔ یہ دونوں ابن عباس کے شاگرد ہیں ، ۳- ابن عباس سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے قبر میں میت کے نیچے کسی چیز کے بچھانے کو مکروہ جانا ہے ۔ بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 967 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔ (ابو التیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2241]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپﷺ کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2241 سے ماخوذ ہے۔