حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي ، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا ، أَفَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .

لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو، وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔“

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ : فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .

امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں (لیث کی) سابقہ حدیث کی طرح «أسلمت للہ» ”میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا“ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہہ دیا۔“ (دونوں کا حاصل ایک ہے۔)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .

یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو (ابن اسود) کندی رضی اللہ عنہ نے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ) بدر میں شرکت کی تھی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی (روایت کردہ) سابقہ حدیث ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 95
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المغازی، باب شهود الملائكة بداء برقم (3794) وفي الديات، باب قول الله تعالى: ﴿ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ﴾ برقم (6472) وابوداؤد في ((سننه)) في الجهاد، باب: على ما يقاتل المشركون برقم (2644) انظر ((التحفة)) برقم (11547)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4019 | سنن ابي داود: 2644

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ! مجھے بتائیے اگر کسی کافر آدمی سے میرا مقابلہ ہو جائے اور وہ مجھ سے لڑ پڑے اور میرا ایک ہاتھ تلوار کی ضرب سے کاٹ دے، پھر مجھ سے کسی درخت کی پناہ لے کر کہے: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا (میں مسلمان ہو گیا)، تو اے اللہ کے رسولؐ! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں! تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔‘‘ تو میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:274]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: لَاذَ: پناہ پکڑنا، بچاؤ اختیار کرنا۔
فوائد ومسائل:
کافر جب کلمہ اسلام زبان سے کہہ لیتا ہے تو اس کی جان کو حرمت وتحفظ حاصل ہوجاتا ہے، اور اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، اگر کوئی مسلمان اس کو قتل کردے گا تو اس مسلمان کی جان کی حرمت اور تحفظ ختم ہوجائے گا، اور اس کو قصاص میں قتل کرناجائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 95 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4019 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے`
«. . . قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا , فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ , أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ . . .»
. . . انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے میں اللہ پر ایمان لے آیا۔ تو کیا یا رسول اللہ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں؟ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي: 4019]
لغوی توضیح:
«لَاذَ» فعل ماضی کا صیغہ ہے، باب «لَاذَ يَلُوْذُ» (بروزن نصر) سے، معنی ہے پناہ پکڑنا۔
فہم الحدیث:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے خواہ حالات یہ بتا رہے ہوں کہ اس نے محض اپنی جان بچانے کے لیے ہی کلمہ پڑھا ہے، دل کی تصدیق سے نہیں۔ کیونکہ حکم ظاہر پر لگایا جاتا ہے، کسی بھی بندے کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا گیا کہ وہ پوشیدہ باتوں کی بھی معرفت حاصل کرے۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 61 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4019 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4019. حضرت مقداد بن عمرو کندی ؓ سے روایت ہے۔۔ وہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ لڑائی میں میرا ایک ہاتھ اڑا دے، پھر وہ مجھ سے خوفزدہ ہو کر کسی درخت کی پناہ لے اور مجھے کہے کہ میں تو اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں تو کیا اللہ کے رسول! میں اسے قتل کروں جبکہ وہ ایسا کہتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے قتل نہ کرو۔‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (پہلے) وہ میرا ایک ہاتھ کاٹ چکا ہے اور میرا کاٹنے کے بعد اس نے یہ اقرار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے ہرگز قتل نہ کرو ورنہ اس کو وہ درجہ حاصل ہو گا جو تجھے اس کے قتل سے پہلے تھا اور تیرا حال وہ ہو جائے گا جو کلمہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4019]
حدیث حاشیہ: تو اس کے قتل کرنے سے پہلے تو جیسے مسلمان معصوم مرحوم تھا ایسے ہی اسلام کا کلمہ پڑھنے سے وہ مسلمان معصوم مرحوم ہو گیا۔
پہلے اس کا مار ڈالنا درست تھا ایسے ہی اب اس کے قصاص میں تیرا مار ڈالنا درست ہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4019 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4019 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4019. حضرت مقداد بن عمرو کندی ؓ سے روایت ہے۔۔ وہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ لڑائی میں میرا ایک ہاتھ اڑا دے، پھر وہ مجھ سے خوفزدہ ہو کر کسی درخت کی پناہ لے اور مجھے کہے کہ میں تو اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں تو کیا اللہ کے رسول! میں اسے قتل کروں جبکہ وہ ایسا کہتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے قتل نہ کرو۔‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (پہلے) وہ میرا ایک ہاتھ کاٹ چکا ہے اور میرا کاٹنے کے بعد اس نے یہ اقرار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے ہرگز قتل نہ کرو ورنہ اس کو وہ درجہ حاصل ہو گا جو تجھے اس کے قتل سے پہلے تھا اور تیرا حال وہ ہو جائے گا جو کلمہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4019]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو انسان کلمہ شہادت ادا کرکے مسلمان ہو جاتا ہے، اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے، پھر اس کے باطن احوال کرید کرنے کے ہم مکلف نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے حالات میں فرمایا: ’’کیا تونے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا کہ اس میں کفر چھپا ہوا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 277۔
(96)
کلمہ توحید کا اقرار کرنے سے پہلے وہ معصوم الدم نہیں تھا یعنی اسے قتل کرنا درست تھا۔
کلمہ پڑھنے کے بعد وہ معصوم الدم ہو گیا۔
یعنی اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔
اگر تم نے اسے قتل کردیا تو تم محفوظ الدم نہیں رہو گے بلکہ تمھیں اس کے قصاص میں قتل کردیا جائے گا۔

اس حدیث میں حضرت مقداد ؓ کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4019 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2644 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے۔`
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم اسے قتل نہ کرو ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2644]
فوائد ومسائل:

کوئی بھی ذمہ داری لینے سے پہلے اس کے فرائض واجبات اور حقوق و آداب کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
جیسے کہ حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفصیلات حاصل کیں۔


ہرمجاہد اسلام اورہر داعی کو اپنے میدان عمل میں انتہائی دانشمندی حلم و صبر اور اطاعت شریعت کا ثبوت دینا لازمی ہے۔


بلا سبب شرعی کسی مسلمان کا قتل کرنا جرم عظیم ہے۔
اور اس کی سزا جہنم ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2644 سے ماخوذ ہے۔