حدیث نمبر: 93
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُوجِبَتَانِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " .

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جنّت اور دوزخ کو واجب ٹھہرانے والی دو صفات کون سی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جو شرک نہ کرتا ہوا مرا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَقِيَهُ ، يُشْرِكُ بِهِ ، دَخَلَ النَّارَ " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : قَال أَبُو الزُّبَيْر : عَنْ جَابِرٍ .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی اللہ کو اس حالت میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا ہوا ملا وہ آگ میں داخل ہو گا۔“

وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بِمِثْلِهِ .

امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2320)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 38

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 38 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´موحد اور مشرک کا انجام`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ مُوجِبَتَانِ. -[18]- قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: (مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئا دخل الْجنَّة) . . .»
. . . سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں واجب کرنے والی ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا: کیا واجب کرنے والی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخ یا جنت واجب کرنے والی ہیں، اگر شرک پر مرا ہے تو جہنم میں داخل ہو گا اور اگر توحید پر مرا ہے اس نے شرک نہیں کیا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 38]
تخریج: [صحيح مسلم 269]

فقہ الحدیث:
➊ شرک ایسا گناہ ہے جو تمام اعمال صالحہ کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ہر دور میں شرک میں مبتلا رہی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ»
اور لوگوں کی اکثریت اللہ پر ایمان لانے (کا دعویٰ کرنے) کے باوجود شرک کرتی ہے۔ [سورة يوسف: 106]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 38 سے ماخوذ ہے۔