حدیث نمبر: 922
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي ، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَلَمْ أَبْكِ .

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، میں نے (دل میں) کہا: پردیسی، پردیس میں (فوت ہو گیا) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہو گا، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کر لی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی، وہ (رونے میں) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شیطان کو اس گھر میں (دوبارہ) داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟“ دو بار (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے) تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 922
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے، تو میں نے دل میں سوچا: پردیسی،پردیس میں فوت ہوگیا، میں اس پر اتنا روؤں گی کہ اس کا چرچا ہو گا، اس لیے میں نے اس پر رونے اور گریہ کرنے کی تیاری کرلی کہ اچانک مدینہ کے بالائی علاقے سے میرا ساتھ دینے اور مجھے مدد دینے کے لیے ایک عورت آئی، اور اسے سامنے رسول اللہ ﷺ مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم یہ چاہتی ہو کہ جس گھر سے اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2134]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس رونے سے مراد بین کرنا نوحہ کرنا ہے جس میں چیخنا چلایا جاتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے اور سراور رخسار پیٹے جاتے ہیں۔
سر خاک ڈالی جاتی ہے اور گریبان چاک کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2134 سے ماخوذ ہے۔