صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا دَخَلَ النَّارَ: باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وَكِيعٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " ، وَقُلْتُ أَنَا : وَمَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ .عبداللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (وکیع نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا) آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔“ اور میں (عبداللہ) نے کہا: جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
توحید پورے دین کا نچوڑ، روح اور مغز ہے۔
دوسرے الفاظ میں پورے دین کا عنوان ہے، کیونکہ توحید یہ ہے کہ اللہ کی ذات، صفات واسماء، افعال اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
اور اس توحید کا اقرار کرنے والا شعوری طور پر دین وشریعت کی زندگی کے کسی گوشہ میں مخالفت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ سیدھا جنت میں داخل ہوگا۔
اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ اللہ کی ذات یا صفات واسماء یا افعال یا اس کے حقوق میں کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور ان میں سے شرک کی کسی جزئی کا مرتکب سیدھا جنت میں داخل نہیں ہوگا، ہاں اگر اس میں توحید کا کوئی جز ہوگا تو اس کی بنا پر وہ کسی نہ کسی وقت سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخل ہوسکے گا۔
اس قسم کی احادیث میں توحید حقیقی اور شرک اصلی کے نتائج بیان کیے گئے ہیں، جن میں ایک دوسرے کا اختلاط نہیں ہے، کیونکہ مفردات کے خواص کسی دوسرے چیز کے ساتھ مرکب ہونے سے بدل جاتے ہیں۔
شرک سے مراد قبروں، مزاروں، تعزیوں کو پوجنا جس طرح کا فرلوگ بتوں کو پوجتے ہیں ہر دو قسم کے لوگ اللہ کے ہاں مشرک ہیں۔
شرک کا ایک شائبہ بھی عند اللہ بہت بڑا گناہ ہے۔
پس شرک سے بہت دور رہنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مرجائے اور وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا اور جو شخص مرجائے اور وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو وہ جہنم میں جائے گا۔
" (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 269(93)
جب دونوں جملے رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آخری جملے کی نسبت اپنی طرف کیوں کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے صرف پہلا جملہ ہی سنا ہو یا سنا ہو تو بھول گئے ہوں، دونوں صورتوں میں انھوں نے خود قرآن وحدیث سے استنباط فرمایا ہو کہ سبب کی نفی سے مسبب کی نفی ہوجائے گی کیونکہ جب دوزخ میں جانے کا سبب بہ ہوگا تو جنت کے علاوہ اور کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اسے داخل کیا جائے۔
دوسرے لفظوں میں یوں ہے کہ مشرک کا جہنم میں داخل ہونا مومن کے جنت میں جانے کو مستلزم ہے۔
یہ مفہوم مخالف نہیں بلکہ لازم معنی ہیں۔
2۔
بہرحال دونوں باتوں کا مطلب یہی ہے کہ توحید پر مرنے والے ضرور جنت میں داخل ہوں گے۔
اور شرک پر مرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
شرک سے مراد قبروں، مزاروں اورتعزیوں کو پوجنا ہے جس طرح کافر بتوں کو پوجتے تھے اس طرح دونوں قسم کے لوگ اللہ کے ہاں مشرک ہیں۔
معمولی سا شرک بھی بہت بڑا گناہ اورناقابل معافی جرم ہے، لہذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود کو توحید پر کاربندر کھے اور شرک سے اپنے آپ کو دور رکھے۔
واللہ المستعان۔
(رواہ الترمذي)
خلاصہ یہ کہ شرک بدترین گناہ ہے اور توحید اعظم ترین نیکی ہے۔
موحد گنہگار مشرک عبادت گزارسے بہر حال ہزار درجے بہتر ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے ایک مرفوع حدیث کو عنوان میں بیان کیا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کی آخری بات لا إله إلا الله ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث 3116)
اس عنوان سے امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ جو شخص لا إله إلا الله کہے اور اس پر اسے موت آ جائے، نیز وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ امام بخاری ؒ کی مراد یہ ہو کہ جو کوئی موت کے وقت اخلاص سے لا إله إلا الله کہے، ایسا کرنے سے اس کے پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے اور وہ جنت میں داخل ہو گا، کیونکہ اخلاص توبہ اور ندامت کو لازم ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص زنا اور حقوق العباد (جیسے چوری)
وغیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو، ایسے حالات میں حقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق اللہ تعالیٰ ضرور کوئی صورت پیدا کر دے گا۔
والله أعلم۔
(2)
حضرت ابن مسعود ؓ کے قول سے امام بخاری ؒ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ جنت میں داخلے کے لیے مرتے وقت کلمہ اخلاص کا پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ اس سے مراد توحید کا عقیدہ رکھنا اور اسی عقیدے پر مرنا ہے۔
ہمارے نزدیک قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ مقصد ہے کہ مریض اور قریب المرگ آدمی کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی جائے تاکہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
اگرچہ تلقین کے متعلق واضح احادیث بھی کتب احادیث میں مروی ہیں، لیکن امام بخاری ؒ کی شرائط کے مطابق نہ تھیں، اس لیے انہیں پیش نہیں کیا گیا، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ اپنے قریب المرگ تعلق داروں کو لا إله إلا الله پڑھنے کی تلقین کرو۔
(صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2123 (916)
تلقین کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس شہادتین کا ذکر کیا جائے، بلکہ اسے پڑھنے کے متعلق کہا جائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے اسے کہا کہ لا إله إلا الله کہو۔
(مسند أحمد: 152/3)