صحيح مسلم
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب صَلاَةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ: باب: سورج ڈھلنے کے وقت جمعہ کی نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 859
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : " مَا كُنَّا ، نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى ، إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ " . زَادَ ابْنُ حُجْرٍ : فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر میں سے یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہم سے حدیث بیان کی عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔ (علی) ابن حجر نے اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 941 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
941. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ نمازِ جمعہ پڑھتے تھے پھر ہمارا قیلولہ ہوتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:941]
حدیث حاشیہ: حضرت امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَظَاهِرُ ذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ الْجُمُعَةَ بَاكِرَ النَّهَارِ.قَالَ الْحَافِظُ: لَكِنَّ طَرِيقَ الْجَمْعِ أَوْلَى مِنْ دَعْوَى التَّعَارُضِ، وَقَدْ تَقَرَّرَ أَنَّ التَّبْكِيرَ يُطْلَقُ عَلَى فِعْلِ الشَّيْءِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهِ أَوْ تَقْدِيمِهِ عَلَى غَيْرِهِ وَهُوَ الْمُرَادُ هُنَا. وَالْمَعْنَى: أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْقَيْلُولَةِ، بِخِلَافِ مَا جَرَتْ بِهِ عَادَتُهُمْ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الْحَرِّ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقِيلُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ لِمَشْرُوعِيَّةِ الْإِبْرَادِ اهـ. وَالْمُرَادُ بِالْقَائِلَةِ الْمَذْكُورَةِ فِي الْحَدِيثِ: نَوْمَ نِصْفِ النَّهَارِ قَوْلُهُ۔
(نیل الأوطار)
یعنی ظاہر یہ کہ وہ صحابی کرام جمعہ کی نماز چڑھتے ہوئے دن میں ادا کرلیتے تھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعارض پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ ہردو قسم کی احادیث میں تطبیق دی جائے اور یہ مقرر ہو چکا ہے کہ تبکیر کا لفظ کسی کام کو اس کے اول وقت میں کرنے یا غیر پر اسے مقدم کرنے پو بولا جاتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز روزانہ کی عادت قیلولہ کے اول وقت میں پڑھ لیا کرتے تھے حالانکہ گرمیوں میں ان کی عادت تھی کہ وہ ٹھنڈا کرنے کے خیال سے پہلے قیلولہ کرتے بعد میں ظہر کی نماز پڑھتے مگر جمعہ کی نماز بعض دفعہ خلاف عادت قیلولہ سے پہلے ہی پڑھ لیا کرتے تھے، قیلولہ دوپہر کے سونے پر بولا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کو بعد زوال اول وقت پڑھنا ان روایات کا مطلب اور منشا ہے۔
اس طرح جمعہ اول وقت اورآخر وقت ہر دو میں پڑھا جا سکتا ہے بعض حضرات قبل زوال بھی جمعہ کے قائل ہیں۔
مگر ترجیح بعد زوال ہی کو ہے اور یہی امام بخاری ؒ کا مسلک معلوم ہوتا ہے۔
ایک طویل تفصیل کے بعد حضرت مولانا عبید اللہ صاحب شیخ الحدیث ؒ فرماتے ہیں: وقد ظهر بما ذكرنا أنه ليس في صلاة الجمعة قبل الزوال حديث صحيح صريح. فالقول الراجح هو ما قال به الجمهور. قال شيخنا في شرح الترمذي: والظاهر المعول عليه هو ما ذهب إليه الجمهور من أنه لا تجوز الجمعة إلا بعد زوال الشمس. وأما ما ذهب إليه بعضهم من أنها تجوز قبل الزوال فليس فيه حديث صريح انتھیٰ۔
(مرعاة ج: 2 ص: 203)
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ زوال سے پہلے درست نہیں اسی قول کو ترجیح حاصل ہے۔
زوال سے پہلے جمعہ کے صحیح ہونے میں کوئی حدیث صحیح صریح وارد نہیں ہوئی پس جمہور ہی کا مسلک صحیح ہے۔
(واللہ أعلم با لصواب)
(نیل الأوطار)
یعنی ظاہر یہ کہ وہ صحابی کرام جمعہ کی نماز چڑھتے ہوئے دن میں ادا کرلیتے تھے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تعارض پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ ہردو قسم کی احادیث میں تطبیق دی جائے اور یہ مقرر ہو چکا ہے کہ تبکیر کا لفظ کسی کام کو اس کے اول وقت میں کرنے یا غیر پر اسے مقدم کرنے پو بولا جاتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز روزانہ کی عادت قیلولہ کے اول وقت میں پڑھ لیا کرتے تھے حالانکہ گرمیوں میں ان کی عادت تھی کہ وہ ٹھنڈا کرنے کے خیال سے پہلے قیلولہ کرتے بعد میں ظہر کی نماز پڑھتے مگر جمعہ کی نماز بعض دفعہ خلاف عادت قیلولہ سے پہلے ہی پڑھ لیا کرتے تھے، قیلولہ دوپہر کے سونے پر بولا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کو بعد زوال اول وقت پڑھنا ان روایات کا مطلب اور منشا ہے۔
اس طرح جمعہ اول وقت اورآخر وقت ہر دو میں پڑھا جا سکتا ہے بعض حضرات قبل زوال بھی جمعہ کے قائل ہیں۔
مگر ترجیح بعد زوال ہی کو ہے اور یہی امام بخاری ؒ کا مسلک معلوم ہوتا ہے۔
ایک طویل تفصیل کے بعد حضرت مولانا عبید اللہ صاحب شیخ الحدیث ؒ فرماتے ہیں: وقد ظهر بما ذكرنا أنه ليس في صلاة الجمعة قبل الزوال حديث صحيح صريح. فالقول الراجح هو ما قال به الجمهور. قال شيخنا في شرح الترمذي: والظاهر المعول عليه هو ما ذهب إليه الجمهور من أنه لا تجوز الجمعة إلا بعد زوال الشمس. وأما ما ذهب إليه بعضهم من أنها تجوز قبل الزوال فليس فيه حديث صريح انتھیٰ۔
(مرعاة ج: 2 ص: 203)
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ زوال سے پہلے درست نہیں اسی قول کو ترجیح حاصل ہے۔
زوال سے پہلے جمعہ کے صحیح ہونے میں کوئی حدیث صحیح صریح وارد نہیں ہوئی پس جمہور ہی کا مسلک صحیح ہے۔
(واللہ أعلم با لصواب)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 941 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 941 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
941. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ نمازِ جمعہ پڑھتے تھے پھر ہمارا قیلولہ ہوتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:941]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث کی اپنے عنوان سے مطابقت ظاہر ہے کیونکہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے اور اول وقت نماز جمعہ کے لیے گھروں سے روانہ ہو جاتے تھے، لفظ تبکیر کے یہی معنی ہیں کہ کسی کام کے لیے جلدی کرنا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوپہر کے وقت سونا پسندیدہ امر ہے، خود اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن پاک میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ ﴾ ’’اور ظہر کے وقت جب تم (آرام کرنے کے لیے)
اپنے کپڑے اتارتے ہو۔
‘‘(النور58: 24)
اس آیت میں قیلولہ کرنے کا بیان ہے۔
(عمدة القاري: 131/5) (2)
براعت الاختتام! قیلولے کا حکم تو حدیث انس میں آ چکا تھا لیکن امام بخاری ؒ نے حدیث سہل ؓ بیان کی ہے اور اس کے آخر میں (ثم تكون القائلة)
کے الفاظ سے براعت الاختتام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ کتاب کے اختتام پر ایسا لفظ بیان کرتے ہیں جس سے آخرت اور موت کی یاد دہانی ہو، چنانچہ مشہور ہے کہ نیند، موت کی بہن ہے، اس طرح امام بخاری ؒ نے موت کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں سرخ رو کرے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
آمین
(1)
ان احادیث کی اپنے عنوان سے مطابقت ظاہر ہے کیونکہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے اور اول وقت نماز جمعہ کے لیے گھروں سے روانہ ہو جاتے تھے، لفظ تبکیر کے یہی معنی ہیں کہ کسی کام کے لیے جلدی کرنا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوپہر کے وقت سونا پسندیدہ امر ہے، خود اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن پاک میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ ﴾ ’’اور ظہر کے وقت جب تم (آرام کرنے کے لیے)
اپنے کپڑے اتارتے ہو۔
‘‘(النور58: 24)
اس آیت میں قیلولہ کرنے کا بیان ہے۔
(عمدة القاري: 131/5) (2)
براعت الاختتام! قیلولے کا حکم تو حدیث انس میں آ چکا تھا لیکن امام بخاری ؒ نے حدیث سہل ؓ بیان کی ہے اور اس کے آخر میں (ثم تكون القائلة)
کے الفاظ سے براعت الاختتام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ کتاب کے اختتام پر ایسا لفظ بیان کرتے ہیں جس سے آخرت اور موت کی یاد دہانی ہو، چنانچہ مشہور ہے کہ نیند، موت کی بہن ہے، اس طرح امام بخاری ؒ نے موت کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں سرخ رو کرے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
آمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 941 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1099 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1099]
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1099]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قیلولے کا وقت دوپہر ہے۔
لیکن جمعے کے دن صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین اس وقت آرام نہیں کرتے تھے۔
تاکہ جمعے کے لئے اول وقت حاضر ہوسکیں۔
(2)
کھانا بھی نماز کے بعد تک موخر کرنے کی یہی وجہ ہے ممکن ہے کہ اس وجہ سے بھی کھانا بعد میں کھاتے ہوں۔
کہ اگر پہلے کھانا کھا لیا توخطبے کے دوران میں نیند کا غلبہ ہوجائے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
قیلولے کا وقت دوپہر ہے۔
لیکن جمعے کے دن صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین اس وقت آرام نہیں کرتے تھے۔
تاکہ جمعے کے لئے اول وقت حاضر ہوسکیں۔
(2)
کھانا بھی نماز کے بعد تک موخر کرنے کی یہی وجہ ہے ممکن ہے کہ اس وجہ سے بھی کھانا بعد میں کھاتے ہوں۔
کہ اگر پہلے کھانا کھا لیا توخطبے کے دوران میں نیند کا غلبہ ہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1099 سے ماخوذ ہے۔