صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ: باب: اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 73
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ " ، قَالُوا : هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّى بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 75 - 82 .حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگوں پر بارش برسی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ شکر گزار بنے اور کچھ ناشکرے۔ کچھ نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے، اور کچھ نے کہا: فلاں نوء اور فلاں نوء کا کام ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس پر یہ آیت اتری: ”مجھے ستاروں کے گرنے کی قسم“ سے لے کر ”تمھارا حصہ اور نصیب یہی ہے کہ تم جھٹلاتے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابنِ عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے دور میں لوگوں پر بارش برسی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کچھ لوگ شکر گزار بنے اور کچھ ناشکرے۔ کچھ نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے، اور کچھ نے کہا: فلاں نوء اور فلاں نوء کا کام ہے۔‘‘ ابنِ عبّاس ؓ فرماتے ہیں: اس پر یہ آیت اتری: ’’مجھے ستاروں کے گرنے کی قسم‘‘ سے لے کر ’’تمھارا حصہ اور نصیب یہی ہے کہ تم جھٹلاتے ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:234]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: رزق کا معنی: بعض نے حصہ و نصیب، بعض نے شکر کیا ہے اور بعض نے مضاف محذوف مانا، یعنی: شكر رزقكم۔
: رزق کا معنی: بعض نے حصہ و نصیب، بعض نے شکر کیا ہے اور بعض نے مضاف محذوف مانا، یعنی: شكر رزقكم۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 234 سے ماخوذ ہے۔