حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح ، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمُطِرْنَا ، فَقَالَ : لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو بارش ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو چاہے اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 698
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 409 | سنن ابي داود: 1065

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1065 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سرد رات یا بارش والی رات میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1065]
1065۔ اردو حاشیہ:
ایسے مواقع پر جماعت کی رخصت ہے۔ یعنی آدمی اکیلے جماعت کے بغیر یا اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔ مگر حاضر ہونے میں یقیناً فضیلت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1065 سے ماخوذ ہے۔