سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ إِذَا كَانَ الْمَطَرُ فَالصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ باب: جب بارش ہو رہی ہو تو گھر میں نماز پڑھ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ " قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَسَمُرَةَ , وَأَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قال أبو عيسى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَخَّصَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُعُودِ عَنِ الْجَمَاعَةِ وَالْجُمُعَةِ فِي الْمَطَرِ وَالطِّينِ ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ : رَوَى عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَمْ نَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ , وَابْنِ الشَّاذَكُونِيِّ , وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ ، وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ : عَامِرٌ ، وَيُقَالُ : زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چاہے اپنے ڈیرے میں ہی نماز پڑھ لے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر ، سمرہ ، ابولملیح عامر ( جنہوں نے اپنے باپ اسامہ بن عمر ہذل سے روایت کی ہے ) اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دی ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1065 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سرد رات یا بارش والی رات میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1065]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1065]
1065۔ اردو حاشیہ:
ایسے مواقع پر جماعت کی رخصت ہے۔ یعنی آدمی اکیلے جماعت کے بغیر یا اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔ مگر حاضر ہونے میں یقیناً فضیلت ہے۔
ایسے مواقع پر جماعت کی رخصت ہے۔ یعنی آدمی اکیلے جماعت کے بغیر یا اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔ مگر حاضر ہونے میں یقیناً فضیلت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1065 سے ماخوذ ہے۔