حدیث نمبر: 67
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں دو باتیں ہیں، وہ دونوں ان میں کفر (کی بقیہ عادتیں) ہیں: (کسی کے) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 67
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12458)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1001

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کی دو باتیں ان میں کفر کی ہیں، نسب میں طعن کرنا اور میّت پر نوحہ کرنا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:227]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
(1)
جاہلیت کے دور میں لوگ حسب ونسب پر فخر کرتے تھے اور دوسروں کے حسب ونسب پر طعن وتشنیع کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک تفوق وبرتری کا انحصار تقوی اور اعمال صالحہ پر نہیں تھا، لیکن اسلام کی رو سے عزت وشرافت کا مدار تقوی اور دینداری پر ہے، قیامت کے دن، ایمان اور اعمال کے بغیر ذات اور نسب کچھ کام نہ دیں گے۔
لیکن مسلمانوں میں ابھی یہ ذہنیت موجود چلی آرہی ہے جو کافرانہ حرکت ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
(2)
میت پر چیخنا اور واویلا کرنا بھی جاہلیت کا شعار ہے، وہ اس کام میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے اور عورتیں نوحہ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اور مسلمانوں میں یہ رسم دور جاہلیت کی یادگار کے طو ر پرچلی آرہی ہےجس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 227 سے ماخوذ ہے۔