حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تو یہ (عمل) کفر ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 62
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الفرائض ، باب: من ادعي الی غير أبيه برقم (6386) انظر ((التحفة)) برقم (14154) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6768

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6768 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6768. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے دادا سے اعراض نہ کرو۔ جس نے اپنے باپ سے روگرانی کی، اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6768]
حدیث حاشیہ:
دور جاہلیت میں لوگ جب کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے تو وہ بیٹا خود کو اپنے باپ کے علاوہ اسی کی طرف منسوب کرتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب میں اس بات کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
(الأحزاب33: 5)
امتناعی حکم کے باوجود آج اکثر لوگ لے پالک کو اپنی طرف ہی منسوب کرتے ہیں۔
حالانکہ شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
ابن بطال نے لکھا ہے کہ غیر شعوری طور پراس طرح کی شہرت مذکورہ وعید کی زد میں نہیں آتی۔
(فتح الباري: 67/12)
بہرحال مذکورہ کفر سے مراد کفر حقیقی نہیں جو انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے بلکہ اس سے مراد کفران نعمت ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6768 سے ماخوذ ہے۔