صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ: باب: منافق کی خصلتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ ، كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : وَإِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ ، كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ .عبداللہ بن نمیر اور سفیان نے اعمش سے، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار عادتیں ہیں جس میں وہ (چاروں) ہوں گی، وہ خالص منافق ہو گا اور جس کسی میں ان میں سے ایک عادت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے۔ (وہ چار یہ ہیں:) جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے۔“ البتہ سفیان کی روایت میں خلقۃ کے بجائے خصلۃ کا لفظ ہے (معنی وہی ہیں۔)
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
خَالِصٌ: پکا، بے آمیز۔
(2)
عَاهَدَ: عہد و معاہدہ کرتا ہے، پیمان وفا باندھتا ہے۔
(3)
غَدَرَ: بدعہدی کرتا ہے، عہد وفا کو توڑتا ہے۔
(4)
فَجَرَ: حق سے ہٹ کر غلط اور جھوٹی بات کہتا ہے، قصد اور اعتدال سے دور ہو جاتا ہے۔
پھر اس میں گالی گلوچ کا استعمال اتنا برا ہے کہ اسے نفاق (بے ایمانی)
کی ایک علامت بتلایا گیا ہے۔
کسی اچھے مسلمان کا کام نہیں کہ وہ جھگڑے کے وقت بے لگام بن جائے اور جو بھی منہ پر آئے بکنے سے ذرا نہ شرمائے۔
(1)
سچا مومن کبھی جھوٹ نہیں بولتا، اسی طرح وہ مخالفت کے اظہار میں بھی حدود کا پاس رکھتا ہے۔
آپے سے باہر ہو کر گالی گلوچ اور ناروا باتوں پر نہیں اترتا کہ وہ جھگڑے کے وقت بے لگام بن جائے اور جو منہ میں آئے بکنے لگے، کیونکہ ایسا کرنا منافقانہ خصلت ہے۔
(2)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مذکورہ خصلتوں پر اصرار کرتا ہے اور ان باتوں کا عادی بن چکا ہے تو ایسے شخص کو منافق کہنا بہتر ہے لیکن جو کبھی کبھار ان خصلتوں کا مرتکب ہوتا ہے اور کبھی انہیں ترک کر دیتا ہے وہ منافق نہیں، یا وہ عملی منافق ہے اعتقادی منافق نہیں۔
چونکہ یہ خصلتیں نفاق کی علامتیں ہیں، اس لیے بعض احادیث میں تین اور بعض میں چار کا ذکر ہوا ہے۔
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا، اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ (بھی) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ (وہ یہ ہیں) جب اسے امین بنایا جائے تو (امانت میں) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب (کسی سے) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب (کسی سے) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 34]
پہلی حدیث میں اور دوسری میں کوئی تعارض نہیں۔ اس لیے کہ اس حدیث میں «منافق خالص» کے الفاظ ہیں، مطلب یہ ہے کہ جس میں چوتھی عادت بھی ہو کہ لڑائی کے وقت گالیاں بکنا شروع کرے تو اس کا نفاق ہر طرح سے مکمل ہے اور اس کی عملی زندگی سراسر نفاق کی زندگی ہے اور جس میں صرف ایک عادت ہو، تو بہرحال نفاق تو وہ بھی ہے۔ مگر کم درجے کا ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ایمان کی کمی و بیشی ثابت کرنا ہے جو ان احادیث سے ظاہر ہے نیز یہ بتلانا بھی کہ معاصی سے ایمان میں نقصان آ جاتا ہے۔
ان احادیث میں نفاق کی جتنی علامتیں ذکر ہوئی ہیں وہ عمل سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی مسلمان ہونے کے بعد پھر عمل میں نفاق کا مظاہرہ ہو اور اگر نفاق قلب ہی میں ہے یعنی سرے سے ایمان ہی موجود نہیں اور محض زبان سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے تو وہ نفاق تو یقیناً کفر و شرک ہی کے برابر ہے۔ بلکہ ان سے بڑھ کر۔ آیت شریفہ «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» [النساء: 145] یعنی ”منافقین دوزخ کے نیچے والے درجے میں ہوں گے۔“ یہ ایسے ہی اعتقادی منافقوں کے بارے میں ہے۔ البتہ نفاق کی جو علامتیں عمل میں پائی جائیں، ان کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ قلب کا اعتقاد اور ایمان کا پودا کمزور ہے اور اس میں نفاق کا گھن لگا ہوا ہو خواہ وہ ظاہری طور پر مسلمان بنا ہوا ہو، اس کو عملی نفاق کہتے ہیں۔
نفاق کے معنی ظاہر و باطن کے اختلاف کے ہیں۔ شرع میں منافق اس کو کہتے ہیں جس کا باطن کفر سے بھرپور ہو اور ظاہر میں وہ مسلمان بنا ہوا ہو۔ رہا ظاہری عادات مذکورہ کا اثر سو یہ بات متفق علیہ ہے کہ محض ان خصائل ذمیمہ سے مومن منافق نہیں بن سکتا۔ وہ مومن ہی رہتا ہے۔
امانت سے مراد امانت الٰہی یعنی حدود اسلامی ہیں۔ اللہ نے قرآن پاک میں اسی کے بارے میں فرمایا ہے۔ «إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ» [الاحزاب: 72] یعنی ہم نے اپنی امانت کو آسمان و زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا مگر انہوں نے اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر اس بار امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ مگر انسان نے اس کے لیے اقرار کر لیا۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ کتنا بڑا بوجھ ہے اس کے بعد باہمی طور پر ہر قسم کی امانت مراد ہیں، وہ مالی ہوں یا جانی یا قولی، ان سب کو ملحوظ خاطر رکھنا اور پورے طور پر ان کی حفاظت کرنا ایمان کی پختگی کی دلیل ہے۔ بات بات میں جھوٹ بولنا بھی بڑی مذموم عادت ہے۔ خدا ہر مسلمان کو بچائے۔ آمین
1۔
شرک، ظلم کا فرد اعلیٰ ہے اور نفاق، کفرکا فرد اعلیٰ ہے اس میں کفر باللہ کے ساتھ مسلمانوں کو دھوکا دینا بھی شامل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عام کفار کے مقابلے میں اس کی سزا بھی سخت رکھی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ ’’بلا شبہ منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔
‘‘ (النساء: 4/145)
اسی مناسبت کی بنا پر کفر سے متعلقہ ابواب کے اختتام پر اسے ذکر کیا گیا ہے۔
پھر نفاق کی دوقسمیں ہیں۔
ایک نفاق تو ایمان و عقیدے کا ہوتا ہے جو کفر کی بدترین قسم ہے جس کی نشاندہی صرف وحی سے ممکن ہے۔
دوسرا عملی نفاق ہے جسے سیرت و کردار کا نفاق بھی کہتے ہیں واضح رہے کہ نفاق میں بھی کفر اور ظلم کی طرح مراتب ہیں بعض ادنیٰ ہیں اور بعض اعلیٰ، اعلیٰ مرتبہ تو نفاق اعتقادی کا ہے جس کا کفر ہونا محتاج بیان نہیں باقی مراتب عملی مراتب نفاق کے ہیں اور ان میں درجات کا تفاوت ہے جب ایمان کے اضداد میں یہ مراتب قائم ہیں تو ایمان میں بھی ضرور ہونے چاہئیں لہٰذا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد واضح ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے اور معاصی ایمان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور نقصان کیا ہو سکتا ہے کہ احادیث میں بیان کردہ افعال قبیحہ کے ارتکاب سے انسان زمرہ منافقین میں آجاتا ہے۔
2۔
نفاق کے معنی ظاہر و باطن کے اختلاف کے ہیں۔
یہ لفظ دراصل نافقاء سے لیا گیا ہے جو چوہے کی طرح ایک جانور کے بل کے پوشیدہ دروازے کا نام ہے جو بظاہر ہموار زمین کی طرح نظر آتاہے منافق بھی بظاہرمسلمان نظرآتا ہے مگراندورنی طور پر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا محض دھوکا دینے کے لیے یہ روپ اختیار کرتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ﴾ ’’اور جب وہ تمھارےپاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر لیے آئے تھےاور اس کفر کے ساتھ ہی واپس ہو گئے۔
اور جو کچھ یہ چھپا رہے ہیں، اسے اللہ خوب جانتا ہے۔
‘‘ (المائدة: 61/5 وشرح الکرماني: 147/1)
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ موقف نہیں ہے کہ ان خصائل کے اختیار کرنے سے ایک مومن انسان منافق بن جاتا ہے بلکہ ان کا مرتکب اس انسان کے اعتبار سے منافق ہے جس کے ساتھ نقض عہد کیا ہے۔
جس سے وعدہ خلافی کی ہے۔
جس کی امانت میں خیانت کی ہے کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہاں اصطلاح نفاق کو بیان نہیں فرما رہے بلکہ وہ ایمان میں کمی بیشی کے اثبات کے لیے کفروظلم میں کمی بیشی کا اثبات کر چکے ہیں اور اب نفاق میں اس کمی بیشی کا اثبات چاہتے ہیں تاکہ نفاق کے درجات کے اثبات سے ایمان میں بھی درجات کا اثبات کیا جائے نیز ان چیزوں کو نفاق کی علت نہیں کہا گیا کہ جس کی موجودگی میں معلول کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے بلکہ یہاں انھیں صرف علامت قراردیا گیا ہے اور ضروری نہیں کہ جہاں علامت موجود ہو وہاں اصل شئے بھی پائی جائے جیسے نبض کی تیزی بخار کی علامت ہے مگر کبھی قوت نفس کی بنا پر بھی نبض تیز ہو جاتی ہے۔
4۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں نفاق کی تین علامتیں بیان ہوئی ہیں اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق کی چار علامتیں ہیں ان چار میں دو علامتیں تو پہلی روایت کی ہیں اور دو علامتیں مزید ہیں۔
اس طرح کل پانچ علامتیں ہو جاتی ہیں۔
1۔
دروغ گوئی 2۔
خیانت 3۔
وعدہ خلافی 4۔
عہد شکنی 5۔
فجور۔
اگر غور کیا جائےتو ان پانچوں کو تین ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کیونکہ وعدہ خلافی اور عہد شکنی میں مصداق کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
اسی طرح فجوربھی دروغ گوئی کے تحت آسکتا ہے۔
ایسی صورت میں تین ہی خصلتیں باقی رہ جاتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کےاسلوب بیان سے معلوم ہو رہا ہے کہ علامات نفاق کا انحصار تین ہی میں ہے۔
کذب بیانی سے فساد قول، خیانت سے فساد عمل اور وعدہ خلافی سے فساد نیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
فساد نیت پر استدلال اس طرح ہے کہ وعدہ خلافی وہی معیوب ہے جس میں وعدہ کرتے وقت یہ نیت کرلی گئی ہو کہ اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اگر پورا کرنے کی نیت ہو اور کوشش کے باوجود اس کا ایفا نہ ہو سکے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔
(فتح الباري: 122/1)
5۔
روایت کے آخر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اعمش سے بیان کرنے میں شعبہ نے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی متابعت کی ہے۔
اس متابعت کے بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قبیصہ عن سفیان کے طریق کو امام یحییٰ بن معین نے ضعیف قراردیا ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ جب اس کی متابعت موجود ہے تو اس طریق کو ضعیف قراردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، چنانچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قبیصہ کے طریق کے علاوہ وکیع (حدَّثنا)
سفیان کا طریق بیان کیا ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 210(58)
پھر اعمش سے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ شعبہ نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے جسے خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المظالم میں ذکر کیا ہے۔
(دیکھئے حدیث نمبر2458)
۔
لہٰذا اس روایت کے قابل حجت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 123/1)
بعض لوگ عن والی روایت پر اعتراض کرتے ہیں کہتے ہیں، سماع کی تصریح یا متابعت ثابت کریں۔
(1) صحیح بخاری باب علامۃ المنافق ج 1 ص10 (ح 34) اس روایت میں سفیان ثوری کی متابعت، شعبہ نے کر رکھی ہے۔ صحیح بخاری کتاب المظالم باب اذا خاصم فجر (ح 2459)
حوالہ: فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد 2، ص 315
وہ وعدہ خواہ کافروں ہی سے کیو ں نہ کیاگیا ہو، پھر جو وعدہ اغیار سے سیاسی سطح پر کیا جائے اس کی اور بھی اونچی حیثیت ہے، اسے پورا کرنا مسلمان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔
اسی لیے آنحضرت ﷺ نے صلح حدیبیہ کو پورے طور پر نبھایا، حالانکہ اس میں قریش کی کئی شرطیں سراسر نامعقول تھیں، مگر الکریم إذا وعد وفی مشہور مقولہ ہے۔
1۔
وعدہ خلافی یا عہد شکنی کرنا ایک مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافقوں کا کام ہے، خواہ وہ عہد وپیمان کفار ہی سے کیوں نہ کیاگیا ہو۔
جو وعدہ اغیار سے سیاسی سطح پر کیا گیا ہو اس کی حیثیت اور بڑھ جاتی ہے۔
اسے پورا کرنامسلمان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے ساتھ کیے گئے عہد وپیمان کو پوری طرح نبھایا، خواہ اپنے بندوں کو ان کے حوالے کرنا پڑا، حالانکہ صلح حدیبیہ میں کفار قریش کی کئی ایک شرائط سراسر نامعقول تھیں اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے انھیں پورا کیا۔
2۔
حدیث میں مذکور برے اعمال کسی مومن کو زیب نہیں دیتے، حقیقتاً ان کو سرانجام دینے والا منافق ہی ہوسکتاہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2632]
وضاحت:
1؎:
یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا عمل منافقوں جیسا ہے۔
اس کے عمل میں نفاق ہے، لیکن ہم اس کے منافق ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔
اسے اس کے ایمان میں جھوٹا ٹھہرا کر منافق قرار نہیں دے سکتے۔
ایسا تو صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوسکتا تھا۔
کیوں کہ آپ ﷺ صاحب وحی تھے، وحی الٰہی کی روشنی میں آپﷺ کسی کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ فلاں منافق ہے مگر ہمیں اور آپ کو کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرنے کاحق و اختیار نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4688]
نفاق بنیادی طور پر قول وعمل کے شدید تضاد کا نام ہے، اگر کسی نے اقرارباللسان کیا، لیکن اس کے اعمال اس کے برعکس ہیں تو اس کا اقرار غیر حقیقی یا انتہائی کمزورہے۔
آپؐ نے جن چیزوں کو علامات نفاق قراردیا ہے وہ اعمال شنیعہ ہی ہیں۔
یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اعمال سے ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر چہ کسی پر مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا حکم اس کے دعوی اور اعمال کے مطابق لگایا جاسکتا ہے، لیکن بعض بنیادی عمل ایسے ہیں کہ صرف زبانی اقرار والے عموماان کا اہتمام نہیں کرسکتے۔
چاہے وہ بڑے بڑے اعمال جیسے نماز وغیرہ کا اہتمام کرتے بھی ہوں، جہاں نیکی ایمان میں اضافے اور ترقی کا باعث بنتی ہے تو وہاں ہر گناہ اور برائی ایمان میں کمی لاتی ہے اور کسی مسلمان میں نفاق کی علامتوں کا پایا جانا ہی قبیح اور بڑا عیب ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس میں چار چیزیں ہوں، وہ منافق ہے، یا ان چار میں سے کوئی ایک خصلت (عادت) ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، عہد و پیمان کرے تو توڑ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5023]
(2) یہاں منافق سے اعتقادی منافق مراد نہیں کہ اسے دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دے دیا جائے کیونکہ اس (اعتقادی منافق) کا علم وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا، بلکہ اس سے عملی منافق مراد ہے، یعنی جس کے کام منافقوں جیسے ہوں۔ اور یہ کام واقعی منافقوں کے ہیں۔مطلب یہ کہ ایسا شخص عملی منافق ہوتاہے، نیز یہ اس وقت ہےجب یہ خصلتیں اس میں بختہ ہوں اور وہ ان کا عادی بن جائے یعنی جب بھی بات کرے، جھوٹ ہی بولے۔ جب بھی وعدہ کرے، خلاف ورزی ہی کرے۔جب بھی عہد کرے، تو ڑدے وغیرہ کیونکہ کبھی کبھار جھوٹ یا وعدہ خلافی یا گالی گلوچ تو ہر ایک سے ہوسکتے ہیں۔ اتنے سے کسی کو منافق نہیں کہا جائے گا۔
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذا خَاصم فجر» . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں یہ چاروں علامتیں موجود ہوں گی وہ خالص اور پکا منافق ہو گا اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک بات ہے تو نفاق کی ایک علامت ہو گی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے (وہ چار باتیں یہ ہیں) جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد و اقرار کرے تو اس کے خلاف کر کے اس کو توڑ دے اور جب جھگڑے تو گالی گلوچ بکے۔“ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 56]
[صحيح بخاري 34]، [صحيح مسلم 210]
فقہ الحدیث:
➊ گالیاں دینا کبیرہ گناہ ہے۔
➋ سچا مسلمان کبھی غدار نہیں ہوتا۔
➌ اس حدیث میں منافق کی اہم اور مشہور چار خصلتیں بیان کی گئی ہیں، جب کہ کتاب و سنت میں اس کی مزید کئی عادات و اطوار کا ذکر ملتا ہے۔