صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ: باب: دین خیرخواہی کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُهَيْلٍ : إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا ، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِيكَ ، قَالَ : وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا ، قَالَ : فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي ، كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، قُلْنَا : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَامَّتِهِمْ " .سفیان رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے کہا عمرو رحمہ اللہ نے ہمیں قعقاع رحمہ اللہ کے واسطہ سے آپ کے باپ سے حدیث سنائی ہے اور میری خواہش یہ تھی کہ وہ مجھے روایت سنائے، تاکہ ایک راوی کم ہو جائے تو سہیل رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنے باپ کے شامی دوست، جس سے وہ روایت بیان کرتے ہیں، خود سنی ہے۔ (اب یہ روایت قعقاع رحمہ اللہ اور سہیل رحمہ اللہ کے باپ ابو صالح رحمہ اللہ کی بجائے سہیل رحمہ اللہ سے ہے اور سند عالی ہو گئی ہے) پھر سفیان رحمہ اللہ نے ہمیں سہیل رحمہ اللہ سے عطاء بن یزید رحمہ اللہ کی تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خیرخواہی کا نام ہے۔“ ہم نے پوچھا: کس کی خیر خواہی؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .سفیان ثوری نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے مانند روایت کی۔
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ سَمِعَهُ وَهوُ يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابوصالح کو حدیث بیان کر رہے تھے، (کہا:) تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔
تشریح، فوائد و مسائل
: النَّصِيحَةُ: نصيحة کا لفظ انتہائی جامع اور پرمغز ہے، جس میں ہر قسم کی بھلائیاں داخل ہیں، اس لیے جس طرح الحج عرفہ کہا گیا ہے، کہ عرفہ میں وقوف کے بغیر حج نہیں ہو سکتا، اسی طرح دین خیرخواہی اور ہمدردی سے عبارت ہے، اس کے بغیر دین کالعدم ہے۔
بعض حضرات نے اس کو "نَصَحَ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ" (آدمی نے اپنے کپڑے سیے)
کے محاورہ سے ماخوذ مانا ہے، اس لیے نصيحة اس کام کا نام ہے جس سے دوسروں کے عیوب و نقائص دور ہوتے ہیں، ان کے معاملات میں اصلاح اور درستگی پیدا ہوتی ہے۔
بعض نے اس کو "نَصَحْتُ العسَّل" ’’میں نے شہد کو موم سے پاک صاف کیا‘‘ سے ماخوذ مانا ہے، اس میں خلوص و صفائی کا معنی ہے، تو نصیحت کا معنی ہو گا خلوص کے ساتھ دوسروں کے معاملات کو سنوارنا اور ان کی اصلاح کرنا۔
فوائد ومسائل:
(الف)
اللہ تعالیٰ کے لیے نصیحت کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی تمام صفات کو بلا تشبیہ وتمثیل ماننا۔
اس کے احکام کی پیروی کرنا، اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اس کی شان کے منافی کوئی چیز اس کی طرف منسوب نہ کرنا اور اس کی عبادت وبندگی کی دوسروں کو دعوت دینا، اور یہ تمام کام انتہائی خلوص اور سچائی کے ساتھ سر انجام دینا۔
(ب)
اللہ کی کتاب کے لیے نصیحت یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے جو بے مثل ہے، اور اللہ کی صفت ہے۔
اس کی تعظیم وتکریم کرنا، اس کی تلاوت کرتا، اس پر تدبر وتفکر کرنا اور اس کے احکام وہدایا ت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اس کی نشر واشاعت اور تبلیغ کے لیے کوشاں رہنا، اس کے خلاف شکوک وشبہات پھیلانے والوں کے اعتراضات کا رد کرنا۔
(ج)
اس کے رسول کے لیے نصیحت یہ ہے کہ اس کی رسالت پر ایمان، اس سے محبت وعقیدت رکھنا اور ا سکی اتباع واطاعت کرنا ور اس کی حمایت ودفاع کےلیے کمر بستہ رہنا، آپ (ﷺ) کے دوستوں سے محبت اور آپ کے دشمنوں سے عداوت رکھنا اور آپ کےلائے ہوئے دین کی نشر واشاعت اورتبلیغ کرنا۔
(د)
مسلمان حکمرانوں کے لیے نصیحت یہ ہے کہ نیک اور صحیح کاموں میں ان کی اطاعت کرنا، اس سے توقیر وتعظیم کے ساتھ پیش آنا۔
بلا وجہ ان کی مخالفت نہ کرنا اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرنا، اگر اس سے مراد ائمہ دین ہوں تو اس سے مراد ہوگا ان کی تکریم واحترام کرنا، ان کے بارے میں اچھے جذبات رکھنا، قرآن وسنت کے مطابق، اس کی ہدایات وتعلیمات پر عمل پیرا ہونا، ان کے علم وفضل سے فائدہ اٹھانا، لیکن اس سے ان کی تقلید کرنا مراد نہیں ہے، کیونکہ "لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِیَةِ الْخَالِقِ" کا قانون واصول صرف ائمہ سیاست کےلیے نہیں ہے، ائمہ دین بھی اس میں داخل ہیں اور کسی امام کے بارے میں بھی معصوم ہونے کا دعوی نہیں کیا جاسکتا، اس لیے ان کی ہر بات آنکھیں بند کرکے تسلیم نہیں کی جاسکتی، یہ مقام ومرتبہ تو صرف پیغمبر کو حاصل ہے کہ اس کی ہر بات ماننا اور اس کے مطابق عمل کرنا، ایمان کی جان ہے، اس کے بغیر انسان، ایماندار نہیں ہوسکتا۔
(س)
مسلمان عوام کی نصیحت یہ ہے کہ ان کے ساتھ خیر خواہی وہمدردی سے پیش آیاجائے، ان کے جان ومال اور عزت وناموس کی حفاظت کی جائے، ان کے دکھ سکھ میں ان کے شریک ہوا جائے، دل میں ان کے خلاف حسد وکینہ اور نفرت وغصہ نہ رکھا جائے، ان کے عیوب کو چھپایا جائے، انہیں دین ودنیا کی بھلائی کی باتوں کی تلقین کی جائے۔
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً، دین خیر خواہی کا نام ہے “ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4944]
اللہ کے لیے نصیحت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبودیت میں سرشار رہے۔
اس کی توحید کا اقرار و اظہار کرے اور شرک سے بیزار اور دور رہے۔
رسول کے لیے نصیحت یہ ہے کہ اس کی رسالت کا اقرار و اظہار اور بے میل کی اطاعت کرے، بدعات سے بیزار اور دور رہے۔
کتاب اللہ کو اپنا دستورِ زندگی بنائے اور تمام مسائل اس کی روشنی میں سر انجام دینے کے لیے کو شاں رہے۔
حکام ِ وقت کے لیے نصیحت یہ ہے کہ خیر و خوبی کے کاموں میں ان کی اطاعت کرے اور ان کا معاون بنے۔
لوگوں کے اندر بلا وجہ ان کی مخالفت کے جذبات نہ اُبھارے اور عام مسلمانوں میں حسبِ مراتب دین ع دُنیا کے معاملات میں بھلائی سے پیش آئے یہی ان کے لیے نصیحت ہے۔
تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دین نصیحت خیر خواہی کا نام ہے “، آپ نے کہا: (نصیحت و خیر خواہی) کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عوام کے لیے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4202]
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ دین (دین اسلام) وعظ و نصیحت کا نام ہے۔ “ تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! یہ نصیحت کا حق کس کے لیے ہے؟ فرمایا ’’ اللہ کے لیے اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مسلمانوں کے آئمہ کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1326»
«أخرجه مسلم، الإيمان، باب بيان أن الدين النصيحة، حديث:55.»
تشریح: 1. اللہ کے لیے خیر خواہی کے معنی یہ ہیں کہ عقیدہ صحیح ہو کہ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں ہے‘ نہ کوئی اس کے علاوہ معبود و مالک ہی ہے۔
اور اس کی عبادت میں بھی اخلاص ہو۔
2. اس کی کتاب کے لیے خیرخواہی سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب کی تصدیق کی جائے اور اس میں جو تعلیم ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
3. اس کے رسول کی خیر خواہی یہ ہے کہ آپ کی رسالت و نبوت کو بصدق قلب تسلیم کیا جائے اور آپ کے حکم کی بلا چون و چرا تعمیل کی جائے اور جس کام سے آپ نے روکا ہو اس سے رکا جائے۔
4. ائمہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ حق کے معاملے میں ان کی بات مانی جائے اور تھوڑی بہت سختی کی بنا پر ان کے خلاف بغاوت اور خروج نہ کیا جائے۔
5. عام مسلمانوں کی خیر خواہی سے مراد یہ ہے کہ اچھے کاموں کی طرف ان کی راہنمائی کی جائے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ» ان کی کنیت ابورقیہ ہے۔
نام تمیم بن اوس بن خارجہ داری ہے۔
۹ہجری میں اسلام قبول کیا۔
بیت المقدس میں سکونت اختیار کی۔
جساسہ کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک انھوں نے پہنچائی تھی۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ انھوں نے سارا قرآن حفظ کیا اور ایک رات میں سارا قرآن تلاوت کر لیتے تھے۔
اور ابونعیم کا قول ہے کہ تمیم وہ پہلے صحابی ہیں جنھوں نے مساجد میں چراغ روشن کیا تھا۔
۴۰ ہجری میں وفات پائی۔
نصیحت کہتے ہیں خیر خواہی کرنے کو، اصل میں نصیحت ماخوذ ہے نصیحت العسل سے جبکہ شہد کو صاف کر لیا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت کے مفہوم میں اخلاص داخل ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ نصیحت الثوبیا لمنصحتہ سے ماخوذ ہے یعنی کپڑے کے شگاف کو سوئی سے رفو کر لینا، اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت کے مفہوم میں اصلاح داخل ہے اور امام خطابی فرماتے ہیں کہ نصیحت ایک جامع کلمہ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جس کی نصیحت کی جائے اس کے سارے حصے اور حق کو پورے طور پر اس کو ادا کیا جائے۔
تو اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہوا کہ دین یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کرے اور اس کے سارے حقوق کو ادا کرے۔ اخلاص وصدق دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے آپ کی اطاعت کرے، آپ کی سنتوں کو اختیار کرے اور دین میں اگر لوگوں کی جہالت و نفسانیت کی بناء پر کوئی خرابی داخل ہوگئی ہو جیسے بدعات و رسوم تو دین کی اصلاح کرے، اور ائمۃ لمسلمین یعنی اسلامی حکام کے ساتھ اخلاص کرے ان کے حقوق کو ادا کرے اور ان کی حمایت کرے اور اگر کوئی اس میں خرابی ہو تو ان کو نرمی سے باخبر کر کے اصلاح کرے اور ان کے خلاف خروج اور بغاوت سے باز رہے۔ عام مسلمانوں کے حقوق کو ادا کرے اور ان کی اصلاح کی فکر کرے۔